TrueHadith

علم کو محفوظ رکھنا۔

Sunan DarimiHadith 571

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ الْحَسَنِ أَنَّهُ دَخَلَ السُّوقَ فَسَاوَمَ رَجُلًا بِثَوْبٍ فَقَالَ هُوَ لَكَ بِكَذَا وَكَذَا وَاللَّهِ لَوْ كَانَ غَيْرَكَ مَا أَعْطَيْتُهُ فَقَالَ فَعَلْتُمُوهَا فَمَا رُئِيَ بَعْدَهَا مُشْتَرِيًا مِنْ السُّوقِ وَلَا بَائِعًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ

حضرت حسن بیان کرتے ہیں وہ ایک بازار میں داخل ہوئے اور ایک شخص کے ساتھ کپڑے کا سوداکرنا شروع کیا وہ شخص بولا یہ آپ کو اتنے میں مل جائے گا اللہ کی قسم آپ کے علاوہ اگر کوئی اور شخص ہوتا تو میں اسے نہ دیتا۔ حضرت حسن بولے تم لوگ یہ کام کرتے ہو اس کے بعد حضرت حسن کو بازار میں خرید و فروخت کرتے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 572

أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ عَنْ حُسَامٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ لَا يَشْتَرِي مِمَّنْ يَعْرِفُهُ

حضرت ابراہیم نخعی کے بارے میں منقول ہے وہ جان پہچان والے کسی شخص کے ساتھ لین دین نہیں کرتے تھے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 573

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ السَّلَامِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ الْمُزَنِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَ قَسَمَ مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَيْرِ مَالًا فِي قُرَّاءِ أَهْلِ الْكُوفَةِ حِينَ دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فَبَعَثَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ فَقَالَ لَهُ اسْتَعِنْ بِهَا فِي شَهْرِكَ هَذَا فَرَدَّهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَعْقِلٍ وَقَالَ لَمْ نَقْرَأْ الْقُرْآنَ لِهَذَا

عبید بن حسن بیان کرتے ہیں حضرت مصعب بن زبیر نے کوفہ میں رہنے والے قرآن کے علوم کے ماہرین میں کچھ مال تقسیم کیا یہ اس وقت کی بات ہے جب رمضان کا مہینہ آگیا تھا انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن معقل کی خدمت میں دو ہزار دینار بھجوائے اور انہیں یہ پیغام دیا کہ آپ اس مبارک مہینے میں اسے اپنے استعمال میں لائیں تو عبدالرحمن بن معقل نے وہ دینار انہیں واپس کردیے اور کہا ہم اس کے لیے قرآن نہیں پڑھتے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 574

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ قَالَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ قَالَ فَمَا يَنْفِي الْعِلْمَ مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ قَالَ الطَّمَعُ

عبیداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب نے حضرت عبداللہ بن سلام سے دریافت کیا اہل علم کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا جو اپنے علم پر عمل کرتے ہیں، حضرت عمر نے دریافت کیا آدمی کے دل میں سے کون سی چیز علم کو ختم کردیتی ہے انہوں نے جواب دیا لالچ۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 575

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زَيْدٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ مَا أَوَى شَيْءٌ إِلَى شَيْءٍ أَزْيَنَ مِنْ حِلْمٍ إِلَى عِلْمٍ

حضرت عطاء بیان کرتے ہیں کوئی عمدہ چیز دوسری چیز کے ساتھ اتنے اچھے طریقے سے جمع نہیں ہوئی جتنا علم کے ساتھ برد باری جمع ہوئی۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 576

أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ زَيْنُ الْعِلْمِ حِلْمُ أَهْلِهِ

عامر شعبی بیان کرتے ہیں علم کی زینت اہل علم کی برد باری ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 577

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ مَا حُمِلَ الْعِلْمُ فِي مِثْلِ جِرَابِ حِلْمٍ

طاؤس بیان کرتے ہیں برد باری کے تھیلے جیسی کسی چیز میں علم نہیں رکھا گیا ۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 578

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ زَيْنُ الْعِلْمِ حِلْمُ أَهْلِهِ

شعبی بیان کرتے ہیں علم کی زینت اہل علم کی برد باری ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 579

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ إِنَّ الْحِكْمَةَ تَسْكُنُ الْقَلْبَ الْوَادِعَ السَّاكِنَ

وہب بن منبہ بیان کرتے ہین بے شک دانائی پرہیزگاری اور صبر دل کو سکون دیتے ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 580

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ شِنْتُمْ الْعِلْمَ وَأَذْهَبْتُمْ نُورَهُ وَلَوْ أَدْرَكَنِي وَإِيَّاكُمْ عُمَرُ لَأَوْجَعَنَا

عبداللہ بیان کرتے ہیں تم لوگوں نے علم کو رسوا کردیا ہے اس کا نور ختم کردیا ہے اگر حضرت عمر مجھے اور تم جیسے لوگوں کو پا لیتے تو ہماری پٹائی کرتے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 581

أَخْبَرَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أُمَيٍّ الْمُرَادِيِّ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ فَإِذَا عَلِمْتُمُوهُ فَاكْظِمُوا عَلَيْهِ وَلَا تَشُوبُوهُ بِضَحِكٍ وَلَا بِلَعِبٍ فَتَمُجَّهُ الْقُلُوبُ

امی بیان کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں علم حاصل کرو جب تم علم حاصل کرلو تو اسے خوامخواہ ظاہر نہ کرو اور اس کے ساتھ ہنسی مذاق نہ ملاؤ اور کھیل کود نہ ملاؤ ورنہ لوگوں کے دل سے اس کا احترام ختم ہوجائے گا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 582

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ مَنْ ضَحِكَ ضَحْكَةً مَجَّ مَجَّةً مِنْ الْعِلْمِ

امام زین العابدین ارشاد فرماتے ہیں جو شخص زیادہ ہنستا ہے وہ علم کی اہمیت کھو دیتا ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 583

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِكَعْبٍ مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ قَالَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ قَالَ فَمَا أَخْرَجَ الْعِلْمَ مِنْ قُلُوبِ الْعُلَمَاءِ قَالَ الطَّمَعُ

سفیان بیان کرتے ہیں حضرت عمر نے کعب سے کہا اہل علم کون ہیں انہوں نے جواب دیا وہ لوگ جو اپنے علم پر عمل کرتے ہوں حضرت عمر نے دریافت کیا علماء کے دل میں کون سی چیز علم کو باہر کردیتی ہے انہوں نے جواب دیا لالچ۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 584

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ كُنْتُ نَازِلًا عَلَى عَمْرِو بْنِ النُّعْمَانِ فَأَتَاهُ رَسُولُ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ حِينَ حَضَرَهُ رَمَضَانُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ فَقَالَ إِنَّ الْأَمِيرَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَقَالَ إِنَّا لَمْ نَدَعْ قَارِئًا شَرِيفًا إِلَّا وَقَدْ وَصَلَ إِلَيْهِ مِنَّا مَعْرُوفٌ فَاسْتَعِنْ بِهَذَيْنِ عَلَى نَفَقَةِ شَهْرِكَ هَذَا فَقَالَ أَقْرِئْ الْأَمِيرَ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَرَأْنَا الْقُرْآنَ نُرِيدُ بِهِ الدُّنْيَا وَدِرْهَمَهَا

ابوایاس بیان کرتے ہیں میں نے عمرو بن نعمان کے ہاں پڑاؤ کیا تو ان کے پاس مصعب بن زبیر کا قاصد آیا وہ دوہزار درہم لے کر آیا تھا یہ رمضان کے مہینے کی بات ہے وہ قاصد بولا گورنر نے آپ کوسلام بھیجا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ ہم نے ہر معزز عالم کی خدمت میں یہ ہدیہ پیش کیا ہے اس لیے آپ بھی اس مہینے میں اس رقم کو اپنے خرچ میں لائیں تو عمرو بن نعمان نے جواب دیا گورنر کو میری طرف سے سلام کہہ دینا۔ اور انہیں یہ کہنا کہ اللہ کی قسم ہم قرآن اس لیے نہیں پڑھتے کہ اس کے عوض میں دنیا اور اس کے درہم حاصل کریں۔

-

Permalink