أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ إِلَى أَهْلِي قَالَ هَلْ لَكَ فِي خَيْرٍ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ قَالَ وَمَنْ يَشْهَدُ عَلَى مَا تَقُولُ قَالَ هَذِهِ السَّلَمَةُ فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَأَقْبَلَتْ تَخُدُّ الْأَرْضَ خَدًّا حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاسْتَشْهَدَهَا ثَلَاثًا فَشَهِدَتْ ثَلَاثًا أَنَّهُ كَمَا قَالَ ثُمَّ رَجَعَتْ إِلَى مَنْبَتِهَا وَرَجَعَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى قَوْمِهِ وَقَالَ إِنْ اتَّبَعُونِي أَتَيْتُكَ بِهِمْ وَإِلَّا رَجَعْتُ فَكُنْتُ مَعَكَ
حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں ایک سفر کے دوران ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اسی دوران ایک صحابی آیاجب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تم کہاں جا رہے ہو۔ اس نے جواب دیا اپنے گھر جارہا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا'کیا تمہیں بھلائی میں کوئی دلچسپی ہے۔ اس نے جواب دیا : وہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں صرف وہی معبود ہے اس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے۔ اس کا شریک نہیں ہے اور محمد اس کے خاص بندے اور رسول ہیں۔ وہ دیہاتی بولا آپ کی اس بات کی گواہی کون دے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیکر کا ایک درخت۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخت کو بلایا وہ درخت وادی کے کنارے پر موجود تھا۔ وہ زمین کو چیرتا ہوا آپ کے پاس آیا اور آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے تین مرتبہ گواہی مانگی اور اس نے تین مرتبہ اس بات کی گواہی دی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا پھر وہ واپس اس جگہ پر چلا آیا جہاں وہ موجود تھا۔ وہ دیہاتی اپنی قوم میں واپس جاتے ہوےبولا۔ اگر ان لوگوں نے میری پیروی کی تو میں انہیں آپ کے پاس لاؤں گا اور اگر نہیں کی تو میں واپس آجاؤں گا اور میں آپ کے پاس رہوں گا۔
-
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ لَا يَأْتِي الْبَرَازَ حَتَّى يَتَغَيَّبَ فَلَا يُرَى فَنَزَلْنَا بِفَلَاةٍ مِنْ الْأَرْضِ لَيْسَ فِيهَا شَجَرٌ وَلَا عَلَمٌ فَقَالَ يَا جَابِرُ اجْعَلْ فِي إِدَاوَتِكَ مَاءً ثُمَّ انْطَلِقْ بِنَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى لَا نُرَى فَإِذَا هُوَ بِشَجَرَتَيْنِ بَيْنَهُمَا أَرْبَعُ أَذْرُعٍ فَقَالَ يَا جَابِرُ انْطَلِقْ إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَقُلْ يُقَلْ لَكِ الْحَقِي بِصَاحِبَتِكِ حَتَّى أَجْلِسَ خَلْفَكُمَا فَرَجَعَتْ إِلَيْهَا فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُمَا ثُمَّ رَجَعَتَا إِلَى مَكَانِهِمَا فَرَكِبْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ بَيْنَنَا كَأَنَّمَا عَلَيْنَا الطَّيْرُ تُظِلُّنَا فَعَرَضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا يَأْخُذُهُ الشَّيْطَانُ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَتَنَاوَلَ الصَّبِيَّ فَجَعَلَهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُقَدَّمِ الرَّحْلِ ثُمَّ قَالَ اخْسَأْ عَدُوَّ اللَّهِ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْسَأْ عَدُوَّ اللَّهِ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَيْهَا فَلَمَّا قَضَيْنَا سَفَرَنَا مَرَرْنَا بِذَلِكَ الْمَكَانِ فَعَرَضَتْ لَنَا الْمَرْأَةُ مَعَهَا صَبِيُّهَا وَمَعَهَا كَبْشَانِ تَسُوقُهُمَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ مِنِّي هَدِيَّتِي فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عَادَ إِلَيْهِ بَعْدُ فَقَالَ خُذُوا مِنْهَا وَاحِدًا وَرُدُّوا عَلَيْهَا الْآخَرَ قَالَ ثُمَّ سِرْنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا كَأَنَّمَا عَلَيْنَا الطَّيْرُ تُظِلُّنَا فَإِذَا جَمَلٌ نَادٌّ حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ سِمَاطَيْنِ خَرَّ سَاجِدًا فَحَبَسَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ عَلَيَّ النَّاسَ مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ فَإِذَا فِتْيَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالُوا هُوَ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَمَا شَأْنُهُ قَالُوا اسْتَنَيْنَا عَلَيْهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً وَكَانَتْ بِهِ شُحَيْمَةٌ فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْحَرَهُ فَنَقْسِمَهُ بَيْنَ غِلْمَانِنَا فَانْفَلَتَ مِنَّا قَالَ بِيعُونِيهِ قَالُوا لَا بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَمَّا لِي فَأَحْسِنُوا إِلَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ قَالَ الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ أَحَقُّ بِالسُّجُودِ لَكَ مِنْ الْبَهَائِمِ قَالَ لَا يَنْبَغِي لِشَيْءٍ أَنْ يَسْجُدَ لِشَيْءٍ وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ كَانَ النِّسَاءُ لِأَزْوَاجِهِنَّ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ایک سفر کے دوران میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جارہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی قضائے حاجت کے لیے جاتےتو اتنی دور چلے جاتے تھے کہ آپ کو دیکھا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ ایک مرتبہ ہم نے ایک ایسی زمین پر پڑاؤ کیا جو آ ب و گیاہ تھی وہاں کوئی درخت نہیں تھا اور نہ ہی ٹیلہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے برتن میں کچھ پانی رکھو اور میرے ساتھ چلو۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ہم لوگ چل پڑے۔ یہاں تک کہ لوگوں کی نظروں سے دور ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہم درختوں کے درمیان آئے جن کے درمیان چار ذراع کا فاصلہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے جابر رضی اللہ عنہ !اس درخت کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ اللہ کے رسول تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ تم اپنے اس ساتھی درخت کے ساتھ مل جاؤ تاکہ میں تم دونوں کی اوٹ میں بیٹھ سکوں حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا تو وہ درخت اس دوسرے درخت کے پاس آگیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کی اوٹ چلے گئے ۔ پھر وہ دونوں اپنی اپنی جگہ واپس چلے گے۔ پھر ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سوار ہو کر چلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ہی تھے۔ آپ کی ہیبت کی وجہ سے ہماری یہ کیفیت تھی کہ گویا ہمارے اوپر پرندے سایہ کیے ہوئے ہیں۔ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آئی اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا۔ اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول یہ میرا بیٹا ہے ۔ شیطان روزانہ تین مرتبہ اسے اپنے قبضے میں لے لیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو پکڑا اسے اپنے اور پالان کے اگلے حصے کے درمیان بٹھا لیا۔ پھر ارشاد فرمایا اے اللہ کے دشمن دور ہو جا۔ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اے اللہ کے دشمن دور ہوجا یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر بچے کو اس عورت کے سپرد کردیا راوی بیان کرتے ہیں واپسی کے سفر کے دوران جب ہم اسی جگہ سے گزرے تو وہی عورت سامنے آئے اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا اور ساتھ دو دنبے بھی تھے جنہیں وہ ہانک کر لا رہی تھی۔ اس نے عرض کی اے اللہ کے نبی میری طرف سے یہ تحفہ قبول کریں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا۔ شیطان دوبارہ اس بچے کی طرف نہیں آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اس میں سے ایک دنبہ رکھ لو اور دوسرا اسے واپس کردو۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر ہم لوگ سفر کر تے رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے۔ آپ کی ہیبت کی وجہ سے ہماری یہ کیفیت تھی۔ گویا ہمارے اوپر پرندوں نے سایہ کیا ہوا ہے۔ اسی دوران ایک اونٹ جو بھاگا ہوا تھا آگیا۔ جب لوگوں کے درمیان آیا تو سجدے میں چلا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ آپ نے لوگوں سے دریافت کیا ۔ اس اونٹ کا مالک کون ہے۔ کچھ انصاری نوجوانوں نے عرض کی : یا رسول اللہ یہ ہمارا اونٹ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا۔ اسے کیا ہوا ہے۔ انہوں نے عرض کی ہم بیس برس سے اسے پانی لانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اب اس میں چربی زیادہ ہو گئی ہے۔ ہمارا یہ ارادہ ہے کہ ہم اسے ذبح کر کے اپنے لڑکوں کے درمیان تقسیم کر دیں تو یہ ہم سے بھا گ کر آگیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اسے مجھے بیچ دو ان نوجوانوں نے عرض کی یا رسول اللہ : یہ آپ ہی کی ملکیت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تم یہ کہتے ہو تو ٹھیک ہے لیکن اس کے ساتھ اچھا سلوک کر تے رہو۔ یہاں تک کہ اس کا آ خری وقت آجائے اس وقت مسلمانوں نے عرض کی یا رسول اللہ : جانوروں کے مقابلے میں ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم آپ کوسجدہ کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی کے لیے بھی کسی دوسرے کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو خواتین اپنے شوہروں کوسجدہ کرتیں۔
-
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ عَنْ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دُفِعْنَا إِلَى حَائِطٍ فِي بَنِي النَّجَّارِ فَإِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ فَدَعَاهُ فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ هَاتُوا خِطَامًا فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ
حضرت جابربیان کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ ہم بنونجار کے ایک باغ کے پاس آئے اس میں ایک اونٹ تھا۔ باغ میں جو شخص بھی داخل ہوتا تھا۔ وہ اونٹ اس پر حملہ کردیتا تھا۔ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے۔ آپ نے اسے بلایا۔ وہ اپنا منہ زمین پر رکھ کر آ گیا۔ یہاں تک کہ آپ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ اس کی لگام لاؤ۔ پھر آپ نے اسے لگام پہنائی اور اسے اس کے مالک کے سپرد کردیا پھر آپ نے (ہماری طرف متوجہ ہو کرارشاد فرمایا) گناہگار جنات اور انسانوں کے علاوہ آسمان اور زمین میں موجود ہر چیز یہ بات جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔
-
أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِابْنٍ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي بِهِ جُنُونٌ وَإِنَّهُ يَأْخُذُهُ عِنْدَ غَدَائِنَا وَعَشَائِنَا فَيُخَبَّثُ عَلَيْنَا فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ وَدَعَا فَثَعَّ ثَعَّةً وَخَرَجَ مِنْ جَوْفِهِ مِثْلُ الْجِرْوِ الْأَسْوَدِ فَسَعَى
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک خاتون اپنے بیٹے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے بیٹے کو جنون لاحق ہوجاتا ہے اس پر یہ دورہ صبح وشام کے وقت پڑتا ہے تو یہ ہمیں بہت تنگ کرتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اس کے لیے دعاکی تو اس نے قے کردی اور اس کے پیٹ میں سے سیاہ بلی جیسے کوئی چیز نکل کر بھاگ گئی۔
-
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ الْعَبْدِيُّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ
حضرت جابر بن سمرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مکہ میں موجود ایک پتھر کو میں آج بھی پہنچانتا ہوں جو میری بعثت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا۔ میں اسے آج بھی پہچانتا ہوں۔
-
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ الْهَمْدَانِيُّ عَنْ إِسْمَعِيلَ السُّدِّيِّ عَنْ عَبَّادٍ أَبِي يَزِيدَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ فِي بَعْضِ نَوَاحِيهَا فَمَرَرْنَا بَيْنَ الْجِبَالِ وَالشَّجَرِ فَلَمْ نَمُرَّ بِشَجَرَةٍ وَلَا جَبَلٍ إِلَّا قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ
علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم آپ کے ساتھ کسی نواحی علاقے میں چلے گئے ہم جن پہاڑوں اور درختوں کے پاس سے گزرتے تو ان میں سے ہر ایک درخت اور ہر پہاڑ نے یہی کہا۔ السلام علیک یا رسول اللہ۔ (اے اللہ کے رسول آپ پر سلامتی ہو)
-
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَإِذَا هُوَ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ ذِئْبٍ قَدْ أَقْعَيْنَ وُفُودُ الذِّئَابِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْضَخُوا لَهُمْ شَيْئًا مِنْ طَعَامِكُمْ وَتَأْمَنُونَ عَلَى مَا سِوَى ذَلِكَ فَشَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَاجَةَ قَالَ فَآذِنُوهُنَّ قَالَ فَآذَنُوهُنَّ فَخَرَجْنَ وَلَهُنَّ عُوَاءٌ
شمر بن عطیہ بیان کرتے ہیں کہ مزینہ قبیلے یا جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ادا کی اس وقت وہاں سو بھیڑیے موجود تھے جنہوں نے اپنے نمائندوں کے طور پر کچھ بھیڑیوں کو بھیجا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ارشاد فرمایا تم اپنے کھانے میں سے انہیں کچھ کھانے کو دے دیا کرو تم ان کے حملے سے محفوظ رہوگے۔ ان بھیڑیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ضرورت کی درخواست پیش کی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وہ ضرورت پوری کردی راوی کا بیان ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت پوری کردی تو وہ بھیڑیے آوازیں نکالتے ہوئے چلے گئے۔
-
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ وَقَدْ تَخَضَّبَ بِالدَّمِ مِنْ فِعْلِ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ جِبْرِيلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ تُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً قَالَ نَعَمْ فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَائِهِ فَقَالَ ادْعُ بِهَا فَدَعَا بِهَا فَجَاءَتْ وَقَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْبِي حَسْبِي
حضرت انس بیان کرتے ہیں حضرت جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ اس وقت غمگین بیٹھے ہوئے تھے کیونکہ قریش سے تعلق رکھنے والے اہل مکہ کی زیادتی کے نتیجے میں آپ کا خون بہت زیادہ بہہ گیا تھا حضرت جبرائیل نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ پسند کریں گے کہ میں آپ کو ایک نشانی دکھلاؤں آپ نے جواب دیا ہاں۔ تو حضرت جبرائیل نے اپنے کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا اور عرض کیا آپ اسے بلائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ آکر آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ حضرت جبرائیل نے عرض کی آپ اسے واپس جانے کا حکم دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا تو وہ واپس چلا گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اتنا ہی کافی ہے۔
-
أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُرِيكَ آيَةً قَالَ بَلَى قَالَ فَاذْهَبْ فَادْعُ تِلْكَ النَّخْلَةَ فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَنْقُزُ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ قُلْ لَهَا تَرْجِعْ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعِي فَرَجَعَتْ حَتَّى عَادَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَقَالَ يَا بَنِي عَامِرٍ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا كَالْيَوْمِ أَسْحَرَ مِنْهُ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنوعامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں ایک نشانی دوں اس نے عرض کیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جاؤ اور کھجور کے اس درخت کو بلاؤ اس نے اس کھجور کے درخت کو بلایا تو وہ چلتا ہو آپ کے سامنے آگیا اس شخص نے عرض کی آپ اسے حکم دیں کہ یہ واپس چلا جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درخت سے کہا کہ واپس چلے جاؤ تو وہ اس جگہ سے واپس چلا گیا جہاں وہ موجود تھا اس شخص نے اپنے قبیلے والوں سے کہا اے بنوعامر میں نے آج جتنا بڑاجادوگر دیکھا ہے اتنا بڑا پہلے نہیں دیکھا۔
-