TrueHadith

جو شخص شہرت اور پہچان کو ناپسند قرار دے۔

Sunan DarimiHadith 517

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ قَالَ جَهَدْنَا بِإِبْرَاهِيمَ حَتَّى أَنْ نُجْلِسَهُ إِلَى سَارِيَةٍ فَأَبَى

اعمش بیان کرتے ہیں ہم نے بڑی کوشش کی کہ ابراہیم نخعی کو ستون کے ساتھ بٹھائیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 518

أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَسْتَنِدَ إِلَى السَّارِيَةِ

ابراہیم نخعی اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ ستون کے ساتھ ٹیک لگائیں۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 519

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ قَالَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ لَا يَبْتَدِئُ الْحَدِيثَ حَتَّى يُسْأَلَ

مغیرہ بیان کرتے ہیں ابراہیم بات کا آغاز نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ جب سوال کیا جاتا پھر اس کا جواب دیتے تھے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 520

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ خَيْثَمَةَ قَالَ كَانَ الْحَارِثُ بْنُ قَيْسٍ الْجُعْفِيُّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانُوا مُعْجَبِينَ بِهِ فَكَانَ يَجْلِسُ إِلَيْهِ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ فَيُحَدِّثُهُمَا فَإِذَا كَثُرُوا قَامَ وَتَرَكَهُمْ

خیثمہ بیان کرتے ہیں حارث بن قیس جعفی جو حضرت عبداللہ کے شاگردوں میں سے ہیں اور لوگ انہیں بہت پسند کرتے تھے اگر ایک یا دو آدمی ان کے پاس بیٹھتے تو وہ انہیں حدیث سنایا کرتے تھے لیکن جب زیادہ لوگ بیٹھتے تو وہ اٹھ کر چلے جاتے اور لوگوں کو چھوڑ دیتے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 521

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قِيلَ لَهُ حِينَ مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ قَعَدْتَ فَعَلَّمْتَ النَّاسَ السُّنَّةَ فَقَالَ أَتُرِيدُونَ أَنْ يُوطَأَ عَقِبِي

ابراہیم نخعی ارشاد فرماتے ہیں جب حضرت عبداللہ کا انتقال ہوا تو علقمہ سے کہا گیا اگر آپ تشریف فرما ہو کر لوگوں کو سنت کی تعلیم دینا شروع کریں تو یہ مناسب ہوگا۔ انہوں نے جواب دیا کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ لوگ میری پیروی کرنا شروع کردیں۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 522

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ هَارُونَ بْنَ عَنْتَرَةَ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ أَتَيْنَا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ لِنَتَحَدَّثَ إِلَيْهِ فَلَمَّا قَامَ قُمْنَا وَنَحْنُ نَمْشِي خَلْفَهُ فَرَهَقَنَا عُمَرُ فَتَبِعَهُ فَضَرَبَهُ عُمَرُ بِالدِّرَّةِ قَالَ فَاتَّقَاهُ بِذِرَاعَيْهِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا نَصْنَعُ قَالَ أَوَ مَا تَرَى فِتْنَةً لِلْمَتْبُوعِ مَذَلَّةً لِلتَّابِعِ

سلیم بن حنظلہ بیان کرتے ہیں ہم حضرت ابی بن کعب کی خدمت میں حاضر ہوتے تاکہ ان سے کچھ گفتگو کریں جب وہ کھڑے ہوئے تو ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم ان کے پیچھے چلنے لگے حضرت عمر نے ہمیں دیکھ لیا وہ ان کے پیچھے آئے اور حضرت عمر نے انہیں درہ سے مارا۔ حضرت ابی نے بازووؤ کے ذریعے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے دریافت کیا اے امیرالمومنین آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ حضرت عمر نے جواب دیا کیا تم نے غور نہیں کیا (تمہاری یہ حرکت) پیشوا کے لیے آزمائش ہے اور پیروی کرنے والوں کے لیے ذلت ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 523

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ كَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ تُوطَأَ أَعْقَابُهُمْ

حضرت ابراہیم نخعی ارشاد فرماتے ہیں پہلے زمانہ کے مشائخ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ ان کے پیچھے چلا جائے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 524

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ بِسْطَامِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ إِذَا مَشَى مَعَهُ الرَّجُلُ قَامَ فَقَالَ أَلَكَ حَاجَةٌ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ قَضَاهَا وَإِنْ عَادَ يَمْشِي مَعَهُ قَامَ فَقَالَ أَلَكَ حَاجَةٌ

بسطام بن مسلم بیان کرتے ہیں محمد بن سیرین جب انکے ساتھ کوئی شخص چلتا تو وہ ٹھہر جاتے اور یہ دریافت کرتے کیا تمہیں کوئی کام ہے اگر اس شخص کو کوئی کام ہوتا تو اسے پورا کردیتے اور اگر وہ دوبارہ ان کے ساتھ چلنے لگتا تو پھر ٹھہر جاتے اور دریافت کرتے کیا تمہیں کوئی کام ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 525

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِيَّاكُمْ أَنْ تُوطَأَ أَعْقَابُكُمْ

حضرت ابراہیم نخعی ارشاد فرماتے ہیں تم اس بات سے بچو کہ تمہارے پیچھے چلا جائے ۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 526

أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْهَيْثَمِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ أَنَّهُ رَأَى أُنَاسًا يَتْبَعُونَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ فَأُرَاهُ قَالَ نَهَاهُمْ وَقَالَ إِنَّ صَنِيعَكُمْ هَذَا أَوْ مَشْيَكُمْ هَذَا مَذَلَّةٌ لِلتَّابِعِ وَفِتْنَةٌ لِلْمَتْبُوعِ

عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں انہوں نے کچھ لوگوں کو دیکھا جو حضرت سعد بن جبیر کے پیچھے چلنے لگے عاصم بیان کرتے ہیں سعید نے انہیں منع کیا اور فرمایا تمہاری یہ حرکت پیچھے چلنے والوں کے لیے ذات اور جس کے پیچھے چلا جا رہا ہے اس کے لیے آزمائش کی حثییت رکھتی ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 527

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَسْوَدَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ شَاوَرْتُ مُحَمَّدًا فِي بِنَاءٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبْنِيَهُ فِي الْكَلَّاءِ قَالَ فَأَشَارَ عَلَيَّ وَقَالَ إِذَا أَرَدْتَ أَسَاسَ الْبِنَاءِ فَآذِنِّي حَتَّى أَجِيءَ مَعَكَ قَالَ فَأَتَيْتُهُ قَالَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَمْشِي إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَمَشَى مَعَهُ فَقَامَ فَقَالَ أَلَكَ حَاجَةٌ قَالَ لَا قَالَ أَمَّا لَا فَاذْهَبْ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ أَنْتَ أَيْضًا فَاذْهَبْ قَالَ فَذَهَبْتُ حَتَّى خَالَفْتُ الطَّرِيقَ

ابن عون بیان کرتے ہیں میں نے محمد نامی محدث سے ایک عمارت تعمیر کرنے کے بارے میں مشورہ کیا۔ میرا یہ ارادہ تھا کہ ویران علاقے میں اسے تعمیر کروں گا۔ انہوں نے اشارے کے ذریعے مجھ سے کہا جب تم اس عمارت کی بنیاد رکھنے لگو تو مجھے بتا دینا میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا۔ ابن عون کہتے ہیں مقررہ وقت پر میں ان کے پاس آیا ہم جا رہے تھے اسی دوران ایک شخص آیا اور ان کے ساتھ چلنے لگا وہ ٹھہر گئے اور پوچھا کیا تمہیں کوئی کام ہے۔ اس نے جواب دیا نہیں تو محمد (نامی محدث) نے کہا اگر کوئی کام نہیں ہے تو تم جاؤ۔ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے ایسا کرو تم بھی جاؤ۔ ابن عون بیان کرتے ہیں پھر میں بھی چل پڑا اور دوسرے راستے سے وہاں تک پہنچا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 528

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ نُسَيْرٍ أَنَّ الرَّبِيعَ كَانَ إِذَا أَتَوْهُ يَقُولُ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكُمْ يَعْنِي أَصْحَابَهُ

نسیر بیان کرتے ہیں ربیع کے پاس جب لوگ آتے تھے تو وہ کہا کرتے تھے کہ میں تم لوگوں کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 529

أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ وَهُوَ سَاكِتٌ فَقِيلَ لَهُ أَلَا تُحَدِّثُ أَصْحَابَكَ قَالَ أَخَافُ أَنْ أَقُولَ لَهُمْ مَا لَا أَفْعَلُ

عبدالرحمن بن بشیر بیان کرتے ہیں ہم لوگ حضرت خباب بن ارت کے پاس موجود تھے ان کے ساتھی انکے پاس اکٹھے ہوئے تو وہ خاموش ہوگئے ان سے کہا گیا آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کوئی بات کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے جواب دیا مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں ان سے کوئی ایسی بات نہ کہہ دوں جس پر میں خود عمل نہیں کرتا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 530

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ قَالَ وَدِدْتُ أَنِّي نَجَوْتُ مِنْ عَمَلِي كَفَافًا لَا لِي وَلَا عَلَيَّ

صالح بیان کرتے ہیں میں نے شعبی کو یہ کہتے ہوئے سنا میری یہ خواہش ہے کہ میرے علم کے حوالے سے میری نجات ہی ہوجائے تو اتناہی کافی ہے کہ نہ مجھے کوئی ثواب ملے اور نہ میرے اوپر کوئی وبال ہو۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 531

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَمْشِي وَنَاسٌ يَطَئُونَ عَقِبَهُ فَقَالَ لَا تَطَئُوا عَقِبِي فَوَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أُغْلِقُ عَلَيْهِ بَابِي مَا تَبِعَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ

حسن بیان کرتے ہیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ جب چلتے تھے تو لوگ ان کے پیچھے ہولیتے تھے تو وہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ میرے پیچھے نہ چلو اللہ کی قسم اگر تمہیں یہ پتا چل جائے کہ میں بند دروازے کے پیچھے کیا کام کرتا ہوں تو تم میں سے کوئی بھی میرے پیچھے نہ آئے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 532

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ فِتْنَةٌ لِلْمَتْبُوعِ مَذَلَّةٌ لِلتَّابِعِ

سعید بن جبیر فرماتے ہیں کسی کے پیچھے چلنا آگے جانے والے شخص کے لیے آزمائش اور پیچھے آنیوالے کے لیے ذلت ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 533

أَخْبَرَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أُمَيٍّ قَالَ مَشَوْا خَلْفَ عَلِيٍّ فَقَالَ عَنِّي خَفْقَ نِعَالِكُمْ فَإِنَّهَا مُفْسِدَةٌ لِقُلُوبِ نَوْكَى الرِّجَالِ

امی بیان کرتے ہیں لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے چلا کرتے تھے وہ یہ فرماتے تھے میرے پیچھے نہ آؤ کیونکہ اس کی وجہ سے بیوقوف لوگوں کے دل خراب ہوجاتے ہیں۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 534

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ إِنَّ خَفْقَ النِّعَالِ حَوْلَ الرِّجَالِ قَلَّ مَا يُلَبِّثُ الْحَمْقَى

حسن بیان کرتے ہیں پیچھے چلنے سے بیوقوف آدمی کا دماغ خراب ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 535

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ حَدَّثَنَا قَاسِمُ هُوَ ابْنُ مَالِكٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ كَانَ إِذَا جَلَسَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ أَوْ الرَّجُلَانِ قَامَ فَتَنَحَّى

طاؤس کے بارے میں منقول ہے کہ جب ایک یا دو آدمی انکے پاس آ کر بیٹھتے تو وہ اٹھ کر چلے جاتے تھے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 536

أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ وَعَنْ عِلْمِهِ مَا فَعَلَ بِهِ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ وَعَنْ جِسْمِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ

حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن کسی بندے کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ برقرار رہیں گے جب تک اس سے اس کی زندگی کے بارے میں سوال نہ کیا جائے کہ اس نے اسے کس بارے میں صرف کیا اور اس کے علم کے بارے میں دریافت کیا جائے گا کہ اس نے اس پر کیا عمل کیا اور اس کے مال کے بارے میں دریافت کیا جائے گا کہ اس نے اس کو کہاں خرچ کیا اور اس کے جسم کے بارے میں کہ سوال کیا جائے گا کہ اس نے اسے کس آزمائش میں مبتلا کیا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 537

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ رَاشِدٍ حَدَّثَنِي فُلَانٌ الْعُرَنِيُّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ لَا يَدَعُ اللَّهُ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى يَسْأَلَهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ عَمَّا أَفْنَوْا فِيهِ أَعْمَارَهُمْ وَعَمَّا أَبْلَوْا فِيهِ أَجْسَادَهُمْ وَعَمَّا كَسَبُوا فِيمَا أَنْفَقُوا وَعَمَّا عَمِلُوا فِيمَا عَلِمُوا

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو یوں نہیں چھوڑے گا اس دن لوگ تمام جہاں کے پرور دگار کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے یہاں تک کہ لوگوں سے چار چیزوں کے بارے میں حساب لیا جائے گا کہ انہوں نے اپنی زندگی کس کام میں بسر کی انہوں نے اپنے جسموں کو کن معاملات میں استعمال کیا انہوں نے کیسے کمایا اور کیسے خرچ کیا اور جس چیز کا انہیں علم حاصل ہوا اس پر کیسے عمل کیا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 538

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعٍ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ وَعَنْ جَسَدِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا وَضَعَهُ وَعَنْ عِلْمِهِ مَاذَا عَمِلَ فِيهِ

حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں قیامت کےدن بندے کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہلیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں حساب نہ لیا جائے۔ اس کی عمر کے بارے میں جو اس نے بسر کی اس کے جسم کے بارے میں جسے اس نے آزمائش میں مبتلا کیا اور اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے کہاں کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اسکے علم کے بارے میں اس پر کتنا عمل کیا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 539

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ لَيْثٍ قَالَ قَالَ لِي طَاوُسٌ مَا تَعَلَّمْتَ فَتَعَلَّمْ لِنَفْسِكَ فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ ذَهَبَتْ مِنْهُمْ الْأَمَانَةُ

لیث بیان کرتے ہیں طاؤس نے مجھ سے کہا تم جو علم حاصل کرتے ہو اسے اپنے لیے حاصل کرو کیونکہ لوگوں میں سے امانت رخصت ہوگئی ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 540

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَالنَّاسِكُ إِذَا نَسَكَ لَمْ يُعْرَفْ مِنْ قِبَلِ مَنْطِقِهِ وَلَكِنْ يُعْرَفُ مِنْ قِبَلِ عَمَلِهِ فَذَلِكَ الْعِلْمُ النَّافِعُ

حسن بیان کرتے ہیں میں نے لوگوں کو اس حالت میں پایا کہ عبادت کرنیوالا شخص جب عبادت کرتا تھا تو اسے اس کی باتوں کی وجہ سے نہیں پہچانا جاتا تھا بلکہ اس کے عمل کی وجہ سے پہچاناجاتا تھا اور یہی نفع دینے والا علم ہے۔

-

Permalink