أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لِيُتَّقَى مِنْ تَفْسِيرِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يُتَّقَى مِنْ تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ
معتمر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے اتنی ہی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چا ہیے جتنی احتیاط قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے کی جاتی ہے۔
-
أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَا تَخَافُونَ أَنْ تُعَذَّبُوا أَوْ يُخْسَفَ بِكُمْ أَنْ تَقُولُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ وَقَالَ فُلَانٌ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کیا تم لوگوں کو اس بات سے ڈر نہیں لگتا کی جب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے ہمراہ یہ کہتے ہو کہ فلاں نے یہ کہا ہے کہ تمہیں عذاب دیا جائے یا تمہیں زمین میں دھنسا دیا جائے۔
-
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِنَّهُ لَا رَأْيَ لِأَحَدٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَإِنَّمَا رَأْيُ الْأَئِمَّةِ فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ كِتَابٌ وَلَمْ تَمْضِ بِهِ سُنَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَأْيَ لِأَحَدٍ فِي سُنَّةٍ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اوزاعی ارشاد فرماتے ہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خط لکھا تھا کہ اللہ کی کتاب کے بارے میں کسی شخص کی رائے کی کوئی حثییت نہیں ہے آئمہ کی رائے ان معاملات میں ہوتی ہے جس کے بارے میں کتاب کا کوئی حکم نازل نہ ہوا ہو اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سنت موجود نہ ہو اللہ کے رسول نے جو سنت مقرر کردی ہو اس کے بارے میں کسی رائے کا اعتبار نہیں ہوگا۔
-
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ خَطَبَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ بَعْدَ نَبِيِّكُمْ نَبِيًّا وَلَمْ يُنْزِلْ بَعْدَ هَذَا الْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْهِ كِتَابًا فَمَا أَحَلَّ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ فَهُوَ حَلَالٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَا حَرَّمَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَلَا وَإِنِّي لَسْتُ بِقَاصٍّ وَلَكِنِّي مُنَفِّذٌ وَلَسْتُ بِمُبْتَدِعٍ وَلَكِنِّي مُتَّبِعٌ وَلَسْتُ بِخَيْرٍ مِنْكُمْ غَيْرَ أَنِّي أَثْقَلُكُمْ حِمْلًا أَلَا وَإِنَّهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَنْ يُطَاعَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ أَلَا هَلْ أَسْمَعْتُ
عبیداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا اے لوگو بے شک اللہ نے تمہارے نبی کے بعد کسی اور نبی مبعوث نہیں کرنا اور اس نبی پر اپنی جوکتاب نازل کی تھی اس کے بعد کسی اور کتاب کونازل نہیں کیا لہذا اپنے نبی کی مقدس زبان کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے وہ قیامت تک حلال رہیں گی اور اپنے نبی کی مقدس زبان کے ذریعے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے وہ قیامت تک حرام رہیں گی۔ یہ بات یادر کھنا کہ میں فیصلہ دینے والا نہیں ہوں بلکہ میں (شرعی احکام کو) نافذ کرنے والا ہوں۔ میں بدعتی نہیں ہوں میں (سنت کا) پیروکار ہوں اور میں تم سے زیادہ بہتر نہیں ہوں البتہ میرے اوپر بھاری ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ یہ بات یاد رکھنا اللہ کی نافرمانی کے معاملے میں اس کی مخلوق میں سے کسی کی بھی پیروی نہیں کی جاسکتی کیا میں نے اپنی بات واضح کردی ہے؟۔
-
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ قَالَ كَانَ طَاوُسٌ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ اتْرُكْهُمَا قَالَ إِنَّمَا نُهِيَ عَنْهَا أَنْ تُتَّخَذُ سُلَّمًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَلَا أَدْرِي أَتُعَذَّبُ عَلَيْهَا أَمْ تُؤْجَرُ لِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ قَالَ سُفْيَانُ تُتَّخَذَ سُلَّمًا يَقُولُ يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ
ہشام بیان کرتے ہیں طاؤس عصر کے بعد دو رکعت ادا کیا کرتے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا انہیں پڑھناچھوڑ دو۔ طاؤس نے عرض کی کہ ان سے اس لیے منع کیا گیا کہ انہیں سیڑھی کے طور پر نہ پڑھا جائے۔ ابن عباس نے ارشاد فرمایا عصر کے بعد نماز ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے مجھے نہیں پتاکہ تمہیں ان نوافل کے پڑھنے پر عذاب دیا جائے گا یا اجر ملے گا کیونکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کسی بھی مومن مرد یا عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بھی معاملے میں فیصلہ دے دیں تو انہیں اپنے کسی معاملے میں کسی قسم کا کوئی اختیار ہو اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا وہ واضح گمراہی کا شکار ہوجائے گا۔ ۔ سفیان بیان کرتے ہیں سیڑھی کے طور پر استعمال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب تک مسلسل نوافل ادا کیے جائیں۔
-
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ مُجَالِدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنُسْخَةٍ مِنْ التَّوْرَاةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ نُسْخَةٌ مِنْ التَّوْرَاةِ فَسَكَتَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَوَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ يَتَغَيَّرُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ثَكِلَتْكَ الثَّوَاكِلُ مَا تَرَى مَا بِوَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ بَدَا لَكُمْ مُوسَى فَاتَّبَعْتُمُوهُ وَتَرَكْتُمُونِي لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ وَلَوْ كَانَ حَيًّا وَأَدْرَكَ نُبُوَّتِي لَاتَّبَعَنِي
حضرت جابر بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تورات کا ایک نسخہ لے کر حاضر ہوئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول یہ تورات کا ایک نسخہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے حضرت عمر نے اسے پڑھنا شروع کردیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل ہونے لگا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں عورتیں روئیں کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھ نہیں رہے؟ حضرت عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو عرض کی میں اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ہم اللہ کے پروردگار ہونے اسلام کے دین حق ہونے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اب اگر موسی تمہارے سامنے آجائیں اور تم ان کی پیروی کرو اور مجھے چھوڑ دو تو تم سیدھے راستے سے بھٹک جاؤ گے اور اگر آج موسی زندہ ہوتے اور میری نبوت کا زمانہ پالیتے تو وہ بھی میری پیروی کرتے۔
-
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي رَبَاحٍ شَيْخٌ مِنْ آلِ عُمَرَ قَالَ رَأَى سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ رَجُلًا يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ الرَّكْعَتَيْنِ يُكْثِرُ فَقَالَ لَهُ فَقَالَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَيُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ لَا وَلَكِنْ يُعَذِّبُكَ اللَّهُ بِخِلَافِ السُّنَّةِ
حضرت عمر کی اولاد سے تعلق رکھنے والے ابورباح نامی ایک بزرگ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ سعید بن مسیب نے ایک شخص کو عصر کے بعد نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا تو اسے منع کیا۔ اس شخص نے ان سے دریافت کیا اے ابومحمد کیا اللہ مجھے نماز پڑھنے پر عذاب دے گا تو سعید بن مسیب نے جواب دیا نہیں بلکہ اللہ تمہیں سنت کی خلاف ورزی کرنے پر عذاب دے گا۔
-