TrueHadith

عورت کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرنا۔

Sunan DarimiHadith 1099

أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ ابْنِ سَابِطٍ قَالَ سَأَلْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ أَبِي بَكْرٍ قُلْتُ لَهَا إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْهُ قَالَتْ سَلْ يَا ابْنَ أَخِي عَمَّا بَدَا لَكَ قَالَ أَسْأَلُكِ عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ فَقَالَتْ حَدَّثَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ قَالَتْ كَانَتْ الْأَنْصَارُ لَا تُجَبِّي وَكَانَتْ الْمُهَاجِرُونَ تُجَبِّي فَتَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فَجَبَّاهَا فَأَبَتْ الْأَنْصَارِيَّةُ فَأَتَتْ أُمَّ سَلَمَةَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا فَلَمَّا أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحْيَتْ الْأَنْصَارِيَّةُ وَخَرَجَتْ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ادْعُوهَا لِي فَدُعِيَتْ لَهُ فَقَالَ لَهَا نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكَمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سِمَامًا وَاحِدًا وَالسِّمَامُ السَّبِيلُ الْوَاحِدُ

ابن سابط بیان کرتے ہیں میں نے حفصہ بنت عبدالرحمن یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہیں سے سوال کیا میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں لیکن مجھے آپ سے وہ سوال کرتے ہوئے شرم آتی ہے سیدہ حفصہ بنت عبدالرحمن نے فرمایا اے بھتیجے تم نے جو سوال کرنا ہے کرو۔ ابن سابط نے کہا میں آپ سے عورتوں کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرنے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں تو سیدہ حفصہ بنت عبدالرحمن نے بتایا مجھے سیدہ ام سلمہ نے یہ بات بتائی ہے انصاری (اپنی بیویوں کو) الٹا نہیں لٹاتے تھے جبکہ مہاجرین ایسا کیا کرتے تھے۔ ایک مہاجر نے ایک انصاری خاتون سے شادی کی اسے الٹا لٹایا تو اس نے انکار کردیا پھر وہ انصاری خاتون سیدہ ام سلمہ کے پاس آئی اور ان سے اس بات کا تذکرہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اس انصاری خاتون کو حیاء آگئی اور وہ چلی گئی۔ سیدہ ام سلمہ نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا اس عورت کو میرے پاس بلاؤ اس عورت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو نبی اکرم نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھی۔ "تمہاری عورتیں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آ سکتے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صحبت کرنے کا مقام ایک ہی ہے۔ (امام محمد دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والا لفظ سمام سے مراد راستہ ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1100

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ لَقَدْ عَرَضْتُ الْقُرْآنَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ أَقِفُ عِنْدَ كُلِّ آيَةٍ أَسْأَلُهُ فِيمَ أُنْزِلَتْ وَفِيمَ كَانَتْ فَقُلْتُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَرَأَيْتَ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمْ اللَّهُ قَالَ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمْ أَنْ تَعْتَزِلُوهُنَّ

مجاہد بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تین مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا ہے اور ہر ایک آیت پر رک کر ان سے دریافت کیا ہے کہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ور کہاں نازل ہوئی ایک مرتبہ میں نے ان سے کہا اے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اللہ کے اس فرمان کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں۔ جب وہ اچھی طرح سے پاک ہوجائیں تو جیسے تمہیں اللہ نے حکم دیا ویسے ان کے ساتھ صحبت کیا کرو۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا جس جگہ تمہیں ان عورتوں سے الگ رہنے کا حکم دیا تھا اب اسی صحبت کے مخصوص مقام پر صحبت کرو۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1101

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ مُجَاهِدٍ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمْ اللَّهُ قَالَ أُمِرُوا أَنْ يَأْتُوا مِنْ حَيْثُ نُهُوا

ارشاد باری تعالیٰ ہے اللہ نے تمہیں جو حکم دیا ہے کہ وہاں صحبت کریں جہاں حیض کے دوران صحبت کرنے سے انہیں منع کیا ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1102

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي رَزِينٍ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمْ اللَّهُ قَالَ مِنْ قِبَلِ الطُّهْرِ

ارشاد باری تعالیٰ ہے اللہ نے تمہیں جو حکم دیا ہے پھر اس کے مطابق ان عورتوں کے ساتھ صحبت کرو۔ شیخ ابورزین فرماتے ہیں یعنی طہر کی جانب سے صحبت کرو۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1103

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ قَالَ هُوَ وَاللَّهِ الْقُبُلُ

ارشاد باری تعالیٰ ہے اور جو تمہارے پروردگار نے تمہارے لیے بیویاں پیدا کی ہیں۔ امام مجاہد فرماتے ہیں اللہ کی قسم اس سے مراد اگلی شرمگاہ ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1104

أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ عَنْ عِكْرِمَةَ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ قَالَ إِنَّمَا هُوَ الْفَرْجُ

ارشاد باری تعالیٰ ہے "تمہاری بیویاں کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آ سکتے ہو۔ عکرمہ فرماتے ہیں اس سے مراد اگلی شرمگاہ ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1105

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيُّ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ كَانَتْ الْيَهُودُ لَا تَأْلُو مَا شَدَّدَتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ كَانُوا يَقُولُونَ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْتُوا نِسَاءَكُمْ إِلَّا مِنْ وَجْهٍ وَاحِدٍ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ فَخَلَّى اللَّهُ بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَبَيْنَ حَاجَتِهِمْ

حضرت حسن فرماتے ہیں یہود مسلمانوں پر اعتراض کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے تھے وہ یہ کہا کرتے تھے اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیو! اللہ کی قسم تمہارے لیے صرف ایک ہی طریقے کے ساتھ اپنی بیویوں سے صحبت کرنا جائز ہے تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ "تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آ سکتے ہو۔ حسن بصری فرماتے ہیں اللہ نے اہل ایمان کی خواہش کے مطابق انہیں سہولت عطا کی۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1106

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ قَالَ ائْتِهَا مِنْ بَيْنِ يَدَيْهَا وَمِنْ خَلْفِهَا بَعْدَ أَنْ يَكُونَ فِي الْمَأْتَى

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ نے ارشاد فرمایا ہے"اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ صحبت کے مخصوص مقام پر آگے یا پیچھے کسی بھی طرف صحبت کی جاسکتی ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1107

أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَصْنَعُونَ فِي الْحَائِضِ نَحْوًا مِنْ صَنِيعِ الْمَجُوسِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَلَمْ يَزْدَدْ الْأَمْرُ فِيهِنَّ إِلَّا شِدَّةً

عکرمہ بیان کرتے ہیں زمانہ جاہلیت میں لوگ حائضہ عورت کے ساتھ وہی سلوک کرتے تھے جو مجوسی کیا کرتے تھے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ لوگ تم سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں تم جواب دو وہ ناپاکی ہے حیض کے دوران عورتوں سے جنسی طور پر الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ عکرمہ کہتے ہیں تو ان خواتین کے بارے میں سختی میں اضافہ ہوگیا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1108

أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قُلْ هُوَ أَذًى قَالَ هُوَ الدَّمُ

ارشاد باری تعالیٰ تم جواب دو ناپاکی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس سے مراد خون ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1109

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ قُلْ هُوَ أَذًى قَالَ قَذَرٌ

ارشاد باری تعالی "تم جواب دو وہ ناپاکی ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں اس سے مراد گندگی ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1110

أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ بْنُ خَيَّاطٍ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ لَيْثًا حَدَّثَ عَنْ عِيسَى بْنِ قَيْسٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ قَالَ إِنْ شِئْتَ فَاعْزِلْ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَعْزِلْ

ارشاد باری تعالیٰ ہے " تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہے تم جیسے چاہو اپنے کھیت میں آسکتے ہو۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں اس آیت سے مراد یہ ہے۔ تم جیسے چاہو اگلی شرمگاہ میں صحبت کرسکتے ہو۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1111

أَخْبَرَنَا خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ عَوْفٍ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ كَيْفَ شِئْتَ يَعْنِي إِتْيَانَهَا فِي الْفَرْجِ

حضرت حسن بصری فرماتے ہیں اس آیت سے مراد یہ ہے تم جیسے چاہو راوی کہتے ہیں اگلی شرمگاہ میں صحبت کرسکتے ہو۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1112

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ الْيَهُودَ قَالُوا لِلْمُسْلِمِينَ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ وَهِيَ مُدْبِرَةٌ جَاءَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری بیان کرتے ہیں یہود نے مسلمانوں سے یہ کہا جو شخص پیچھے کی جانب سے عورت کی اگلی شرمگاہ میں صحبت کرتا ہے اس کے ہاں بھینگا بچہ پیدا ہوتا ہے تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں تم جیسے چاہو اپنے کھیت میں آؤ۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1113

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عِكْرِمَةَ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ قَالَ يَأْتِي أَهْلَهُ كَيْفَ شَاءَ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَبَيْنَ يَدَيْهَا وَمِنْ خَلْفِهَا

ارشاد باری تعالیٰ ہے تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ۔ عکرمہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد جیسے چا ہے اپنی بیوی سے صحبت کرسکتا ہے کھڑا ہو کر بیٹھ کر عورت کے آگے کی جانب سے عورت کے پیچھے کی جانب سے اگلی شرمگاہ میں صحبت کرسکتا ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1114

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمْ اللَّهُ قَالَ فِي الْفَرْجِ

ارشادباری تعالیٰ ہے تمہیں جو حکم دیا ہے اس کے مطابق ان کے ساتھ صحبت کرو۔ ابراہیم نخعی فرماتے ہیں اس سے مراد اگلی شرمگاہ میں صحبت کرنا ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1115

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا فَهُوَ مِنْ الْمَرْأَةِ مِثْلُهُ مِنْ الرَّجُلِ ثُمَّ تَلَا وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمْ اللَّهُ أَنْ تَعْتَزِلُوهُنَّ فِي الْمَحِيضِ الْفَرْجَ ثُمَّ تَلَا نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ قَائِمَةً وَقَاعِدَةً وَمُقْبِلَةً وَمُدْبِرَةً فِي الْفَرْجِ

مجاہد فرماتے ہیں جو شخص عورت کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرے اس نے گویا کسی مرد کے ساتھ بدفعلی کی ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی۔ لوگ تم سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں تم جواب دو یہ ناپاکی ہے حیض کے دوران عورتوں سے جنسی تعلق کے اعتبار سے الگ رہو۔ اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں تو ان کے قریب نہ جاؤ جب وہ اچھی طرح پاک ہوجائیں تو جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ان کےساتھ صحبت کرو۔ مجاہد فرماتے ہیں حیض کے دوران ان سے الگ رہنے کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی اگلی شرمگاہوں میں صحبت نہ کرو۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی۔ تمہاری بیویاں تمہارے کھیت ہیں تم اپنے کھیت میں جیسے چاہو آؤ۔ اس کی وضاحت مجاہد نے یوں بیان کی ہے خواہ وہ عورت کھڑی ہو خواہ وہ بیٹھی ہو خواہ تمہاری طرف منہ کرے خواہ تمہاری طرف پیٹھ کرے لیکن صحبت فرج یعنی اگلی شرمگاہ میں کی جائے گی۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1116

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ حَكِيمٍ الْأَثْرَمِ عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَى حَائِضًا أَوْ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص کسی حائضہ عورت کے ساتھ صحبت کرلے اور بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرے یا کسی کاہن کی پیشین گوئی کی تصدیق کرے تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو اللہ نے حضرت محمد پر نازل کی ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1117

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ عَنْ أَبِي الْقَعْقَاعِ الْجَرْمِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ آتِي امْرَأَتِي حَيْثُ شِئْتُ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَمِنْ أَيْنَ شِئْتُ قَالَ نَعَمْ قَالَ وَكَيْفَ شِئْتُ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ هَذَا يُرِيدُ السُّوءَ قَالَ لَا مَحَاشُّ النِّسَاءِ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ سُئِلَ عَبْد اللَّهِ تَقُولُ بِهِ قَالَ نَعَمْ

حضرت ابوقعقاع جرمی بیان کرتے ہیں ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا اے ابوعبدالرحمن میں اپنی بیوی کے ساتھ جیسے چاہوں صحبت کرسکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا ہاں اس شخص نے سوال کیا اور جہاں چاہوں صحبت کرسکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا ہاں اس نے سوال کیا جس طرح چاہوں۔ حضرت عبداللہ نے جواب دیا ہاں تو ایک شخص نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن اس شخص کا مطلب غلط ہے تو حضرت عبداللہ نے فرمایا نہیں عورتوں کی پچھلی شرمگاہیں تمہارے لیے حرام ہیں۔ امام محمد دارمی سے سوال کیا گیا آپ بھی اس بات کے قائل ہیں انہوں نے جواب دیا ہاں۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1118

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ دَاوُدَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ إِتْيَانَ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا وَيَعِيبُهُ عَيْبًا شَدِيدًا

عکرمہ بیان کرتے ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ مرد کے بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرنے کو مکروہ حرام قرار دیتے تھے اور اسے برا سمجھتے تھے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1119

حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ الْعَالَمِينَ قَالَ مَا نَزَى ذَكَرٌ عَلَى ذَكَرٍ حَتَّى كَانَ قَوْمُ لُوطٍ

ارشاد باری تعالی "تم لوگوں نے ایسی برائی کا ارتکاب کیا ہے جو دنیا میں تم سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ عمرو بن دینار فرماتے ہیں کسی مرد نے کسی مرد کے ساتھ بدفعلی نہیں کی یہاں تک کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے دنیا میں سب سے پہلے ایسا کیا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1120

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا لَمْ يَنْظُرْ اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص اپنی بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1121

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عِيسَى بْنِ حِطَّانَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ سَلَّامٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ طَلْقٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحْدَثَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنْصَرِفْ وَلْيَتَوَضَّأْ ثُمَّ يُصَلِّي وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ سُئِلَ عَبْد اللَّهِ عَلِيُّ بْنُ طَلْقٍ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ نَعَمْ

حضرت علی بن طلق روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب نماز کے دوران کسی شخص کا وضو ٹوٹ جائے اور وہ جا کر وضو کرے اور پھر وہیں سے نماز پڑھنا شروع کردے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے عورتوں کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت نہ کرو بے شک اللہ حق بیان کرنے سے حیاء نہیں کرتا۔ امام محمد عبداللہ درامی سے سوال کیا گیا حضرت علی بن طلق کو شرف صحبت حاصل ہے۔ یعنی وہ صحابی رسول ہے) تو انہوں نے جواب ہاں۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1122

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ مَا تَقُولُ فِي الْجَوَارِي حِينَ أُحَمِّضُ بِهِنَّ قَالَ وَمَا التَّحْمِيضُ فَذَكَرْتُ الدُّبُرَ فَقَالَ هَلْ يَفْعَلُ ذَاكَ أَحَدٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ

ابوحباب سعید بن یسار کہتے ہیں میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا آپ کنیزوں کےساتھ تحمیض کے بارے میں کیا کہتے ہو انہوں نے دریافت کیا تحمیض سے مراد کیا ہے تو میں نے پچھلی شرمگاہ کا ذکر کیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا کوئی مسلمان یہ حرکت کرسکتا ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1123

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُصَيْنٍ الْأَنْصَارِيِّ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَكَانَ مِنْ أَسْنَانِي حَدَّثَنِي هَرَمِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَذَاكَرْنَا شَأْنَ النِّسَاءِ فِي مَجْلِسِ بَنِي وَاقِفٍ وَمَا يُؤْتَى مِنْهُنَّ فَقَالَ خُزَيْمَةُ بْنُ ثَابِتٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ

ھرمی بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ہم بنو واقف کی ایک محفل میں خواتین اور ان سے صحبت کرنے کے طریقے کے بارے میں گفتگو کررہے تھے تو حضرت خزیمہ بن ثابت نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اے لوگو بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے حیاء نہیں کرتا عورتوں کے ساتھ ان کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت نہ کرو۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1124

أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كَانُوا يَجْتَنِبُونَ النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَيَأْتُونَهُنَّ فِي أَدْبَارِهِنَّ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَيَسْأَلُونَكَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمْ اللَّهُ فِي الْفَرْجِ وَلَا تَعْدُوهُ

مجاہد بیان کرتے ہیں لوگ حیض کے دوران عورتوں سے صحبت کرنے سے اجتناب کرتے تھے اور ان کی پچھلی شرمگاہوں میں صحبت کرلیا کرتے تھے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ "لوگ تم سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں تم فرما دو یہ ناپاکی ہے حیض کے دوران صحبت سے عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں انکے قریب نہ جاؤ جب وہ اچھی طرح پاک ہوجائیں جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اجازت دی ہے ان کے ساتھ صحبت کرنے کی۔ مجاہد فرماتے ہیں ان کی اگلی شرمگاہوں میں صحبت کی جائے گی اس کے علاوہ نہیں۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 1125

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ طَاوُسٍ وَسَعِيدٍ وَمُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يُنْكِرُونَ إِتْيَانَ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ وَيَقُولُونَ هُوَ الْكُفْرُ

طاؤس، سعید، مجاہد اور عطا عورت کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرنے کا انکار کرتے تھے اور اسے کفر قرار دیتے تھے۔

-

Permalink