TrueHadith

ولاء کا حکم۔

Sunan DarimiHadith 2879

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَوْلَى أَخٌ فِي الدِّينِ وَنِعْمَةٌ أَحَقُّ النَّاسِ بِمِيرَاثِهِ أَقْرَبُهُمْ مِنْ الْمُعْتِقِ

زہری روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آزاد کرنے والا شخص دینی اعتبار سے بھائی ہوتا ہے اور نعمت کا حق دار ہوتا ہے اور آدمی کی وراثت کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہوگا جو آزاد کرنے والے سے سب سے زیادہ قریبی تعلق رکھتا ہو۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2880

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا ثُمَّ مَاتَ الْمَوْلَى وَالْمَمْلُوكُ وَتَرَكَ الْمُعْتِقُ أَبَاهُ وَابْنَهُ قَالَا الْمَالُ لِلِابْنِ

محمد بن سالم بیان کرتے ہیں ایسے شخص کے بارے میں شعبی یہ فرماتے ہیں اس نے اپنے غلام کو آزاد کیا تھا اور پھر آزاد کرنے والا شخص اور وہ غلام دونوں آزاد ہوگئے آزاد کرنے والے شخص نے پسماندگان میں باپ اور بیٹے کو چھوڑا تو یہ دونوں حضرات یہ فرماتے ہیں کہ وہ مال اس کے بیٹے کو ملے گا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2881

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَامِرٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فِي رَجُلٍ تَرَكَ أَبَاهُ وَابْنَ ابْنِهِ فَقَالَ الْوَلَاءُ لِابْنِ الِابْنِ

حضرت زید بن ثابت ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے پسماندگان میں باپ اور پوتے کو چھوڑا ہوتو ولاء کا حق پوتے کو ملے گا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2882

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مُعَمَّرٌ حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ أَنَّ امْرَأَةً أَعْتَقَتْ عَبْدًا لَهَا ثُمَّ تُوُفِّيَتْ وَتَرَكَتْ ابْنَهَا وَأَخَاهَا ثُمَّ تُوُفِّيَ مَوْلَاهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ الْمَرْأَةِ وَأَخُوهَا فِي مِيرَاثِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثُهُ لِابْنِ الْمَرْأَةِ فَقَالَ أَخُوهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَنَّهُ جَرَّ جَرِيرَةً عَلَى مَنْ كَانَتْ قَالَ عَلَيْكَ

زیاد بن ابومریم بیان کرتے ہیں ایک خاتون نے اپنے غلام کو آزاد کر دیا اس خاتون کا پھر انتقال ہوگیا اس خاتون نے پسماندگان میں ایک بیٹا اور بھائی چھوڑا پھر وہ غلام جو آزاد ہوا تھا وہ بھی فوت ہوگیا تو اس خاتون کا بیٹا اور بھائی اس غلام کی وراثت کامسئلہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس غلام کی وراثت اس عورت کے بیٹے کو ملے گی اس عورت کے بھائی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر یہ غلام کسی جرم کا ارتکاب کرتا تو اس کی ادائیگی کس پر لازم ہوتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم پر لازم ہوتی۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2883

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ قَالَ سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَجُلٍ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ فَمَاتَ وَمَاتَ الْمَوْلَى فَتَرَكَ الْمُعْتِقُ أَبَاهُ وَابْنَهُ فَقَالَ لِأَبِيهِ كَذَا وَمَا بَقِيَ فَلِابْنِهِ

مغیرہ بیان کرتے ہیں میں نے ابراہیم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو اپنے غلام کو آزاد کرنے کے بعد انتقال کر جائے پھر اس کا غلام بھی انتقال کر جائے پھر اس آزاد کرنے والے شخص نے پسماندگان میں باپ اور ایک بیٹا چھوڑا ہو تو ابراہیم نے جواب دیا اس کے باپ کو اتناحصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والا مال اس کے بیٹے کو ملے گا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2884

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَكَمَ وَحَمَّادًا يَقُولَانِ هُوَ لِلِابْنِ

شعبہ بیان کرتے ہیں میں نے حکم اور حماد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ وہ مال اس کے بیٹے کو ملے گا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2885

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْأَشْعَثُ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْبَقِيعِ فَرَأَى رَجُلًا يُبَاعُ فَأَتَاهُ فَسَاوَمَ بِهِ ثُمَّ تَرَكَهُ فَرَآهُ رَجُلٌ فَاشْتَرَاهُ فَأَعْتَقَهُ ثُمَّ جَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي اشْتَرَيْتُ هَذَا فَأَعْتَقْتُهُ فَمَا تَرَى فِيهِ فَقَالَ هُوَ أَخُوكَ وَمَوْلَاكَ قَالَ مَا تَرَى فِي صُحْبَتِهِ فَقَالَ إِنْ شَكَرَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَشَرٌّ لَكَ وَإِنْ كَفَرَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ وَشَرٌّ لَهُ قَالَ مَا تَرَى فِي مَالِهِ قَالَ إِنْ مَاتَ وَلَمْ يَتْرُكْ عَصَبَةً فَأَنْتَ وَارِثُهُ

حضرت حسن بصری بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں تشریف لائے وہاں آپ نے ایک شخص کو فروخت ہوئے دیکھا آپ اس کے پاس تشریف لائے آپ نے اس کی بولی لگائی اور پھر اسے چھوڑ دیا۔ ایک شخص نے یہ بات دیکھی تو اسے خرید کر اس کو آزاد کردیا پھر اس شخص کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی میں نے اسے خرید کر آزاد کردیا ہے آپ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ تمہارا بھائی ہے اور آزاد کردہ غلام ہے اس شخص نے دریافت کیا اس کے ساتھ اچھے سلو ک کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ تمہارا شکر گزار رہے گا تو یہ اس کے لے بہتر ہے تمہارے لیے برا ہے اور اگر تمہاری ناشکری کرے گا تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اس کے لے برا ہے ان صاحب نے دریافت کیا اس شخص کے مال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر یہ فوت ہوجائے اور کوئی عصبہ نہ چھوڑے تو تم اسکے وارث ہوگے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2886

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ عَنْ الْحَكَمِ وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ أَنَّ ابْنَةَ حَمْزَةَ أَعْتَقَتْ عَبْدًا لَهَا فَمَاتَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَمَوْلَاتَهُ بِنْتَ حَمْزَةَ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ بَيْنَ ابْنَتِهِ وَمَوْلَاتِهِ بِنْتِ حَمْزَةَ نِصْفَيْنِ

عبداللہ بن شداد بیان کرتے ہیں حضرت حمزہ کی صاحبزادی نے اپنے غلام کو آزاد کردیا وہ غلام فوت ہوگیا اس نے پسماندگان میں اپنی ایک بیٹی اور اپنی ایک آزاد کر دینے والی حضرت حمزہ کی صاحبزادی کو چھوڑا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کی وراثت اس کی بیٹی اور اسے آزاد کرنے والی خاتون حضرت حمزہ کی صاحبزادی کے درمیان نصف نصف حصوں میں تقسیم کردی۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2887

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ شَمُوسَ الْكِنْدِيَّةِ قَالَتْ قَاضَيْتُ إِلَى عَلِيٍّ فِي أَبٍ مَاتَ فَلَمْ يَدَعْ أَحَدًا غَيْرِي وَمَوْلَاهُ فَأَعْطَانِي النِّصْفَ وَأَعْطَى مَوْلَاهُ النِّصْفَ

شموس کندیہ بیان کرتی ہیں میں ایک مقدمہ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئی تھی جس میں میرے والد فوت ہوگئے تھے انہوں نے پسماندگان میں صرف مجھے اور اپنے آقا کو چھوڑا تھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے نصف حصہ عطا کیا تھا اور اس والد کو آزاد کرنے والے آقا کو بھی نصف حصہ عطا کیا تھا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2888

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي الْكَنُودِ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ أُتِيَ بِابْنَةٍ وَمَوْلًى فَأَعْطَى الِابْنَةَ النِّصْفَ وَالْمَوْلَى النِّصْفَ قَالَ الْحَكَمُ فَمَنْزِلِي هَذَا نَصِيبُ الْمَوْلَى الَّذِي وَرِثَهُ عَنْ مَوْلَاهُ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ ان کی خدمت میں ایک آزاد شدہ غلام کی بیٹی اور ایک آزاد کرنے والے آقا کامسئلہ پیش کیا گیا تو انہوں نے بیٹی کو نصف حصہ دیا اور آزاد کرنے والے آقا کو بھی نصف دیا۔ حکم بیان کرتے ہیں میرا یہ گھر اس آزاد کرنے والے شخص کے حصے میں آنے والے نصف حصے کا ایک حصہ ہے جس کا وہ اپنے آزاد شدہ غلام کی طرف سے وارث ہوا تھا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2889

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُدْلِجٍ أَنَّهُ مَاتَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَمَوَالِيَهُ فَأَعْطَى عَلِيٌّ ابْنَتَهُ النِّصْفَ وَمَوَالِيَهُ النِّصْفَ

عبدالرحمن بن مدلج کے بارے میں منقول ہے کہ ان کا انتقال ہوگیا انہوں نے پسماندگان میں ایک بیٹی اور آزاد کرنے والا شخص چھوڑا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی بیٹی کو نصف حصہ دیا اور اس آزاد کرنے والے شخص کو بھی نصف حصہ دیا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2890

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ الشَّمُّوسِ أَنَّ أَبَاهَا مَاتَ فَجَعَلَ عَلِيٌّ لَهَا النِّصْفَ وَلِمَوَالِيهِ النِّصْفَ

شموس بیان کرتی ہیں ان کے والد فوت ہوگئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں نصف حصہ عطا کیا اور اس کے والد کو آزاد کرنے والے کو بھی نصف حصہ دیا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2891

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنْ جَهْمِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أُخْتَيْنِ اشْتَرَتْ إِحْدَاهُمَا أَبَاهَا فَأَعْتَقَتْهُ ثُمَّ مَاتَ قَالَ لَهُمَا الثُّلُثَانِ فَرِيضَتُهُمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْمُعْتِقَةِ دُونَ الْأُخْرَى

ابراہیم نخعی کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے دو ایسی بہنوں کے بارے میں پوچھا گیا جن میں سے ایک نے اپنے باپ کو خرید کر آزاد کر دیا تھا پھر اس باپ کا انتقال ہوگیا ہو تو ابراہیم نے جواب دیا دونوں کو اللہ کی کتاب میں وہ بیان شدہ حصے کے مطابق دو تہائی حصہ ملے گا اور باقی بچ جانے والا مال اس بیٹی کو ملے گا جس نے اسے آزاد کیا تھا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2892

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي امْرَأَةٍ أَعْتَقَتْ أَبَاهَا فَمَاتَ الْأَبُ وَتَرَكَ أَرْبَعَ بَنَاتٍ هِيَ إِحْدَاهُنَّ قَالَ لَيْسَ عَلَيْهِ مِنَّةٌ لَهُنَّ الثُّلُثَانِ وَهِيَ مَعَهُنَّ

جو عورت اپنے باپ کو آزاد کر دے اس کے بارے میں شعبی یہ فرماتے ہیں اگر اس کا باپ فوت ہوجائے اور اس کی چار بیٹیاں چھوڑی ہوں جن میں سے ایک وہ عورت ہو تو اس نے اپنے باپ پر کوئی احسان نہیں کیا ان سب بیٹیوں کو دو تہائی حصہ ملے گا اور وہ آزاد کرنے والی بھی اسی میں حصہ دار ہوگی۔

-

Permalink