TrueHadith

رد کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ اور حضرت زید کی رائے۔

Sunan DarimiHadith 2818

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ قَالَ النِّصْفُ وَالسُّدُسُ وَمَا بَقِيَ فَرَدٌّ عَلَى الْبِنْتِ

حضرت عبداللہ ایک بیٹی اور پوتی کے بارے میں یہ فرماتے ہیں کہ یہ نصف اور چھٹے حصے کے حساب سے تقسیم ہوگا اور باقی بچ جائے گا وہ بیٹی کو واپس ملے گا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2819

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ أُتِيَ فِي إِخْوَةٍ لِأُمٍّ وَأُمٍّ فَأَعْطَى الْإِخْوَةَ مِنْ الْأُمِّ الثُّلُثَ وَالْأُمَّ سَائِرَ الْمَالِ وَقَالَ الْأُمُّ عَصَبَةُ مَنْ لَا عَصَبَةَ لَهُ

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں ان کی خدمت میں ماں کی طرف سے تعلق رکھنے والے بھائیوں اور ماں کا مسئلہ پیش کیا گیا تو انہوں نے ماں کی طرف سے تعلق رکھنے والے بھائیوں کو ایک تہائی حصہ دیا جبکہ ماں کو بقیہ سارا مال دے دیا۔ اور یہ ارشاد فرمایا جس شخص کا کوئی عصبہ نہ ہو ماں اس کی عصبہ بن جاتی ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2820

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ الشَّعْبِيَّ عَنْ رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ لَا يُعْلَمُ لَهُ وَارِثٌ غَيْرُهَا قَالَ لَهَا الْمَالُ كُلُّهُ

حسن اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے شعبی سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو فوت ہوجائے اور پسماندگان میں ایک بیٹی کو چھوڑ دے اس بیٹی کے علاوہ اس کے کسی اور وراث کا پتہ نہ چلے تو شعبی نے جواب دیا اس بیٹی کو اس کا پورا مال مل جائے گا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2821

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ لَا يَرُدُّ عَلَى أَخٍ لِأُمٍّ مَعَ أُمٍّ وَلَا عَلَى جَدَّةٍ إِذَا كَانَ مَعَهَا غَيْرُهَا مَنْ لَهُ فَرِيضَةٌ وَلَا عَلَى ابْنَةِ ابْنٍ مَعَ ابْنَةِ الصُّلْبِ وَلَا عَلَى امْرَأَةٍ وَزَوْجٍ وَكَانَ عَلِيٌّ يَرُدُّ عَلَى كُلِّ ذِي سَهْمٍ إِلَّا الْمَرْأَةَ وَالزَّوْجَ

شعبی بیان کرتے ہیں حضرت ابن مسعود ماں کی طرف سے تعلق رکھنے والے بھائی کو ماں کی موجودگی میں حصہ واپس نہیں کرتے تھے اور نہ ہی دادی کو کرتے تھے جبکہ اس کے ہمراہ کوئی ایسا وراث موجود نہ ہو جس کا کوئی فرض حصہ ہو تو اسی طرح وہ حقیقی بیٹی کی موجودگی میں پوتی کو رد نہیں کرتے تھے اسی طرح شوہر اور بیوی کی طرف سے رد نہیں کرتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ شوہر یا بیوی کے علاوہ ہر حصے دار کی طرف سے باقی بچ جانے والامال لوٹا دیا کرتے تھے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 2822

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ أُتِيَ فِي ابْنَةٍ أَوْ أُخْتٍ فَأَعْطَاهَا النِّصْفَ وَجَعَلَ مَا بَقِيَ فِي بَيْتِ الْمَالِ و قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ خَارِجَةَ

حضرت زید بن ثابت کے بارے میں منقول ہے ان کی خدمت میں ایک بیٹی یا شاید بہن کامسئلہ آیا تو انہوں نے انہیں نصف حصہ دینے کا حکم دیا اور باقی بچ جانے والامال بیت المال میں جمع کروانے کا حکم دیا۔ یزید بن ہارون بیان کرتے ہیں یہ روایت محمد بن سالم کے حوالے سے شعبی کے حوالے سے خارجہ نامی راوی سے منقول ہے۔

-

Permalink