TrueHadith

وارث کے لیے وصیت کرنا۔

Sunan DarimiHadith 3124

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ إِذَا أَقَرَّ لِوَارِثٍ وَلِغَيْرِ وَارِثٍ بِمِائَةِ دِرْهَمٍ أَرَى أَنْ أُبْطِلَهُمَا جَمِيعًا

سفیان فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنے کسی وارث کے علاوہ کسی اور کے لیے ایک سو درہم کا اقرار کرے تو میں یہ سمجھتا ہوں ان دونوں کو باطل قرار دیا جائے گا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 3125

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ لَا يَجُوزُ إِقْرَارٌ لِوَارِثٍ قَالَ و قَالَ الْحَسَنُ أَحَقُّ مَا جَازَ عَلَيْهِ عِنْدَ مَوْتِهِ أَوَّلَ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الْآخِرَةِ وَآخِرَ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا

شریح بیان کرتے ہیں وارث کے حق میں اقرار کرنا درست نہیں ہے۔ حسن فرماتے ہیں مرتے وقت جو آخرت کی زندگی کا پہلا دن ہے اور دنیا کی زندگی کا آخری دن ہے اس قت کی کہی ہوئی بات پوری کرنا زیادہ حق رکھتی ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 3126

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ لَا يَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ

ابوقلابہ بیان کرتے ہیں وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 3127

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حُمَيْدٍ أَنَّ رَجُلًا يُكْنَى أَبَا ثَابِتٍ أَقَرَّ لِامْرَأَتِهِ عِنْدَ مَوْتِهِ أَنَّ لَهَا عَلَيْهِ أَرْبَعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ مِنْ صَدَاقِهَا فَأَجَازَهُ الْحَسَنُ

حبیب بیان کرتے ہیں ایک شخص جس کی کنیت ابوثابت تھی اس نے مرتے وقت اپنی بیوی کے لیے اقرار کیا کہ اس نے اس عورت کو چار سو درہم جو اس کا مہر ہے ادا کرنے ہیں تو حسن نے اسے درست قرار دیا ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 3128

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ قَالَ كُنْتُ تَحْتَ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا وَلُعَابُهَا يَنُوصُ بَيْنَ كَتِفَيَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَلَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ فَلَا يَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ

عمرو بن خارجہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے نیچے موجود تھا وہ جگالی کررہی تھی اور اس کاجگال میرے کندھوں کے درمیان گر رہا تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے خبردار بے شک اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیاہے اس لیے وارث کے بارے میں وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 3129

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمْ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ فَأَمَرَ أَنْ يُوصِيَ لِوَالِدَيْهِ وَأَقَارِبِهِ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ فَجَعَلَ لِلْوَالِدَيْنِ نَصِيبًا مَعْلُومًا وَأَلْحَقَ لِكُلِّ ذِي مِيرَاثٍ نَصِيبَهُ مِنْهُ وَلَيْسَتْ لَهُمْ وَصِيَّةٌ فَصَارَتْ الْوَصِيَّةُ لِمَنْ لَا يَرِثُ مِنْ قَرِيبٍ وَغَيْرِهِ

قتادہ کے بارے میں منقول ہے انہوں نے یہ آیت پڑھی۔ جب کسی شخص کے پاس موت آجائے اور اگر وہ بھلائی (مال) چھوڑ کر جارہاہے تو اسے والدین اور قریبی رشتے داروں کے بارے میں مناسب طور پر وصیت کرنی چاہیے یہ پرہیز گاروں پر لازم ہے۔ قتادہ نے کہا یہ حکم دیا گیا کہ والدین اور رشتہ داروں کے لیے وصیت کی جائے اسکے بعد اسے سورت نساء میں منسوخ کردیا گیا ہے اور والدین کے لیے طے شدہ حصہ ہے۔ اس لیے ورثاء کے بارے میں وصیت نہیں ہوسکتی۔ وصیت اس شخص کے بارے میں ہوگی جو وارث نہیں بنتا ہے خواہ وہ قریبی عزیز ہو یا دور کا عزیز۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 3130

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ وَكَانَتْ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَحَبَّ فَجَعَلَ لِلذَّكَرِ مِثْلَ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ وَجَعَلَ لِلْأَبَوَيْنِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسَ وَالثُّلُثَ وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ الثُّمُنَ وَالرُّبُعَ وَلِلزَّوْجِ الشَّطْرَ وَالرُّبُعَ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں پہلے مال اولاد کے لیے ہوتا تھا اور وصیت والدین کے اور قریبی رشتہ داروں کے لیے ہوتی تھی پھر اللہ نے اپنی مرضی کے مطابق اسے منسوخ کردیا ہے اور ہر مذکر کے لیے دو مونث کے لیے ایک حصہ مقرر کیا والدین میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا اور تیسراحصہ مقرر کیا بیوی کے لیے آٹھواں حصہ مقرر کیا اور شوہر کے لیے چوتھا یا نصف حصہ مقرر کیا۔

-

Permalink

Sunan DarimiHadith 3131

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ عَنْ يَزِيدَ عَنْ عِكْرِمَةَ وَالْحَسَنِ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَكَانَتْ الْوَصِيَّةُ كَذَلِكَ حَتَّى نَسَخَتْهَا آيَةُ الْمِيرَاثِ

عکرمہ بیان کرتے ہیں اللہ فرماتے ہیں اگر وہ بھلائی (مال) چھوڑ کر جا رہا ہے تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لیے مناسب وصیت کرے۔ عکرمہ اور حسن فرماتے ہیں پہلے وصیت اس طرح ہوتی تھی یہاں تک کہ وراثت کے متعلق آیت نے اسے منسوخ کردیا۔

-

Permalink