Sunan Ibn Majah — Hadith 2646
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمَّيْهِ يَعْلَی وَسَلَمَةَ ابْنَيْ أُمَيَّةَ قَالَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا فَاقْتَتَلَ هُوَ وَرَجُلٌ آخَرُ وَنَحْنُ بِالطَّرِيقِ قَالَ فَعَضَّ الرَّجُلُ يَدَ صَاحِبِهِ فَجَذَبَ صَاحِبُهُ يَدَهُ مِنْ فِيهِ فَطَرَحَ ثَنِيَّتَهُ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْتَمِسُ عَقْلَ ثَنِيَّتِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمِدُ أَحَدُکُمْ إِلَی أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ کَعِضَاضِ الْفَحْلِ ثُمَّ يَأْتِي يَلْتَمِسُ الْعَقْلَ لَا عَقْلَ لَهَا قَالَ فَأَبْطَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان، محمد بن اسحاق، عطاء، صفوان بن عبد اللہ، حضرت یعلی اور سلمہ بن امیہ فرماتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں ہم اللہ کے رسول کے ساتھ گئے ہمارے ساتھ ایک ساتھی تھا اور اس کی ایک مرد کی لڑائی ہوگئی اسوقت ہم راستہ میں ہی تھے فرماتے ہیں کہ اس آدمی نے دوسرے کے ہاتھ پر کاٹا دوسرے نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا جس سے اس کا دانت گر گیا وہ اللہ کے رسول کی خدمت میں آیا اور دانت کا مطالبہ کیا تو اللہ کے رسول نے فرمایا تم میں سے ایک اپنے بھائی کی طرف بڑھ کر اسے نر جانور کی طرح کاٹتا ہے پھر دیت کا مطالبہ بھی کرتا ہے اس کی کوئی دیت نہیں فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے اس ہاتھ کو ہدر اور لغو فرمایا۔
It was narrated that Ya'la and Salamah the sons of Umayyah said: "We went out with the Messenger of Allah on the military expedition of Tabuk, and with us was a friend of ours. He fought with another man while we were on the road. The man bit the hand of his opponent, who pulled away his hand and the man's tooth fell out. He came to the Messenger of Allah demanding compensatory money for his tooth, and the Messenger of Allah said: 'Would anyone of you go and bite his brother like a stallion, then come demanding compensatory money? There is no compensatory money for this.’ Hence, the Messenger of Allah invalidated it (i.e. compensatory money in such a case).