TrueHadith

Jami' Tirmidhi, Hadith 1089 · Explanation of Breastfeeding

Jami' TirmidhiHadith 1089

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ سَفَرًا يَکُونُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلَّا وَمَعَهَا أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ زَوْجُهَا أَوْ ابْنُهَا أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَرُوِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَکْرَهُونَ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُسَافِرَ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْمَرْأَةِ إِذَا کَانَتْ مُوسِرَةً وَلَمْ يَکُنْ لَهَا مَحْرَمٌ هَلْ تَحُجُّ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَجِبُ عَلَيْهَا الْحَجُّ لِأَنَّ الْمَحْرَمَ مِنْ السَّبِيلِ لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا فَقَالُوا إِذَا لَمْ يَکُنْ لَهَا مَحْرَمٌ فَلَا تَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلًا وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْکُوفَةِ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا کَانَ الطَّرِيقُ آمِنًا فَإِنَّهَا تَخْرُجُ مَعَ النَّاسِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ قَوْلُ مَالِکٍ وَالشَّافِعِيِّ

احمد بن منیع، ابومعاویہ، اعمش، ابی صالح، حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ کا سفر اپنے والد بھائی شوہر، بیٹے، یا کسی محرم کو ساتھ لیے بغیر کرے۔ اس باب میں حضرت ابوہریرہ، ابن عباس اور ابن عمر سے بھی روایت ہے، یہ حدیث حسن صحیح ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بھی منقول ہے کہ کوئی عورت ایک دن رات کا سفر محرم کے بغیر نہ کرے، اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ محرم کے بغیر سفر کو مکروہ سمجھتے ہیں لیکن اگر کوئی عورت حج کی استطاعت رکھتی ہو اور اس کا کوئی محرم نہ ہو تو اس کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ اس پر حج فرض نہیں کیونکہ محرم کا ہونا ضروری ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا یعنی حج اس پر فرض ہے جس میں جانے کی استطاعت ہو اور یہ عورت استطاعت نہیں رکھتی کیونکہ اس کا کوئی محرم نہیں سفیان ثوری، اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر راستے میں امن ہو تو وہ حج کے قافلے کے ساتھ جائے امام شافعی اور مالک کا یہی قول ہے۔

Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that Allahs Messenger (SAW) said, It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day that she travel (alone) on a journey of three days except that she is accompanied by her father, her brother, her husband, her son or a mahram (besides them). [Ahmed 41515, Muslim 1340, Abu Dawud 17, Ibn e Majah 2898]

Permalink

See the full chapter: عورت کا اکیلے سفر کرنا صحیح نہیں