Jami' Tirmidhi — Hadith 2851
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَطِّعُ قِرَائَتَهُ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ثُمَّ يَقِفُ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ يَقِفُ وَکَانَ يَقْرَؤُهَا مَلِکِ يَوْمِ الدِّينِ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَبِهِ يَقْرَأُ أَبُو عُبَيْدٍ وَيَخْتَارُهُ وَهَکَذَا رَوَی يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ وَغَيْرُهُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ رَوَی هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ يَعْلَی بْنِ مَمْلَکٍ عَنْ أُمِّ سَلمَةَ أَنَّهَا وَصَفَتْ قِرَائَةَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرْفًا حَرْفًا وَحَدِيثُ اللَّيْثِ أَصَحُّ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ وَکَانَ يَقْرَأُ مَلِکِ يَوْمِ الدِّينِ
علی بن حجر، یحیی بن سعید اموی، ابن جریج، ابن ابی ملیکة، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھتے ہوئے ہر آیت پر وقف کرتے تھے یعنی اس طرح پڑھتے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ پھر ٹھہرتے۔ پھر پڑھتے الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پھر رکتے اور پھر پڑھتے مَلِکِ يَوْمِ الدِّينِ (اور پھر رکتے) یہ حدیث غریب ہے۔ ابوعبیدہ بھی اسی طرح پڑھا کرتے تھے۔ اور یہی قرات پڑھتے تھے۔ یعنی مالک یوم الدین کی جگہ ملک یوم الدین نہیں پڑھتے تھے۔ یحیی بن سعید اور کئی راوی بھی ابن جریج سے وہ ابن ابی ملیکہ سے اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے اسی سند سے اسی طرح کی حدیث نقل کرتے ہیں لیکن اس کی سند متصل نہیں۔ اس لئے کہ لیث بن سعد ابن ابی ملیکہ سے وہ یعلی بن مملک سے اور وہ ام سلمہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کی کیفیت بیان کی کہ ہر حرف الگ الگ ہوتا تھا۔ لیث کی حدیث زیادہ صحیح ہے لیکن اس میں یہ ذکر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملک یوم الدین پڑھتے تھے۔
Sayyidah Umm Salamah said that Allah’s Messenger (SAW) cut his recital into pauses. Thus, he recited ‘Alhamdu lillahi rabbil Alamin’ (verse 1 of surah al-Fatahah) and paused. Then ‘Ar-rahman ar-raheem’ (verse 2) and paused and he recited: ‘Maliki Yaumuddin’ (verse 3…and so on). [Abu Dawud 4001]