TrueHadith

Jami' Tirmidhi, Hadith 3015 · Statement on the Interpretation of the Quran

Jami' TirmidhiHadith 3015

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَائَةٌ مَعَ أَبِي بَکْرٍ ثُمَّ دَعَاهُ فَقَالَ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُبَلِّغَ هَذَا إِلَّا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِي فَدَعَا عَلِيًّا فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ

بندار، عفان بن مسلم وعبدالصمد، حماد بن سلمة، سماک بن حرب، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت براءت کے چند کلمات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دے کر بھیجا کہ ان کا اعلان کر دیں۔ پھر انہیں بلایا اور فرمایا کہ میرے اہل میں سے ایک شخص کے علاوہ کسی کو زیب نہیں دیتا کہ اسے پہنچائے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں یہ (سورہ) دی۔ یہ حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے حسن غریب ہے۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that the Prophet (SAW) sent the Bara’ah with Abu Bakr. Then he summoned him and said, “It does not behove anyone to convey it except a man of my family. He then summoned Ali (RA) and gave it to him.” (Bara’ah is security or immunity’. See next hadith.

Permalink

See the full chapter: باب تفسیر سورت التوبہ