TrueHadith

Jami' Tirmidhi, Hadith 3345 · Explanation of Supplications

Jami' TirmidhiHadith 3345

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاةِ الْمَکْتُوبَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْکِبَيْهِ وَيَصْنَعُ ذَلِکَ أَيْضًا إِذَا قَضَی قِرَائَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ وَيَصْنَعُهَا إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْئٍ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ فَإِذَا قَامَ مِنْ سَجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ کَذَلِکَ فَکَبَّرَ وَيَقُولُ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ بَعْدَ التَّکْبِيرِ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِکِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُکِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيکَ لَهُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنْ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُکَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْکَ وَسَعْدَيْکَ أَنَا بِکَ وَإِلَيْکَ وَلَا مَنْجَا وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْکَ أَسْتَغْفِرُکَ وَأَتُوبُ إِلَيْکَ ثُمَّ يَقْرَأُ فَإِذَا رَکَعَ کَانَ کَلَامُهُ فِي رُکُوعِهِ أَنْ يَقُولَ اللَّهُمَّ لَکَ رَکَعْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ وَأَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُخِّي وَعَظْمِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ يُتْبِعُهَا اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ مِلْئَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمِلْئَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ فَإِذَا سَجَدَ قَالَ فِي سُجُودِهِ اللَّهُمَّ لَکَ سَجَدْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ وَأَنْتَ رَبِّي سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَکَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ وَيَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ الصَّلَاةِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ قَالَ أَبُو عِيسَی هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی هَذَا عِنْدَ الشَّافِعِيِّ وَبَعْضُ أَصْحَابِنَا وَأَحْمَدُ لَا يَرَاهُ و قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْکُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ يَقُولُ هَذَا فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ وَلَا يَقُولُهُ فِي الْمَکْتُوبَةِ سَمِعْت أَبَا إِسْمَعِيلَ يَعْنِي التِّرْمِذِيَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ بْنِ يُوسُفَ يَقُولُ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ الْهَاشِمِيَّ يَقُولُ وَذَکَرَ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ هَذَا عِنْدَنَا مِثْلُ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ

حسن بن علی خلال، سلیمان بن داؤد ہاشمی، عبدالرحمن بن ابی زناد، موسیٰ بن عقبہ، عبداللہ بن فضل، عبدالرحمن اعرج، عبیداللہ بن ابی رافع، حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے قرات کے اختتام پر رکوع میں جاتے وقت بھی ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی دونوں ہاتھوں کو شانوں تک اٹھاتے لیکن آپ تشہد اور سجدوں کے دوران ہاتھ نہ اٹھاتے (یعنی رفع یدین نہ کرتے) پھر دو رکعتیں پڑھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو بھی دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے۔ اور جب نماز شروع کرتے تو تکبیر کے بعد یہ کلمات کہتے وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِکِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُکِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيکَ لَهُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنْ الْمُسْلِمِينَ (میں نے اپنے چہرے کو اسی کی طرف سے متوجہ کرلیا جو آسمانوں اور زمین کا پالنے والا ہے۔ میں کسی کجی کی طرف (مائل نہیں ہوں اور نہ ہی میں مشرکین میں سے ہوں۔ بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے جو تمام جہانوں کا رب ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی کا حکم دیا گیا۔ اور میں ماننے والوں میں سے پہلے ہوں۔ اے اللہ تو بادشاہ ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا اور اپنے گناہوں کا اعتراف کیا تو میرے گناہوں کو معاف فرمادے اس لیے کہ گناہوں کا بخشنے والا صرف تو ہی ہے اور مجھے سے برائیاں دور کر دے کیونکہ برائیاں تو ہی دور کر سکتا ہے۔ اے اللہ میں حاضر ہوں اور تیری ہی اطاعت کرتا ہوں۔ تیرے عذاب سے صرف تو ہی پناہ دے سکتا ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ پھر آپ قرات کرتے اور رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑھتے (اے اللہ میں نے تیرے لیے رکوع کیا اور میں تجھ پر ایمان لایا اور تیرا تابع ہوا۔ میرے کان، میری آنکھ، میرا دماغ اور میرے اعصاب تیرے لیے جھک گئے) پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو فرماتے (اے اللہ، اے ہمارے رب تیرے ہی لیے تعریفیں ہیں۔ آسمانوں و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، کے برابر اور مزید جتنا تو چاہے) پھر سجدہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے (اے اللہ میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، میں تجھ پر ایمان لایا اور تیرا ہی تابع ہوا۔ میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اس کی صورت بنائی اور اس میں کان آنکھ پیدا کیے۔ پس وہ بڑا برکت والا ہے جو سب سے اچھا بنانے والا ہے) پھر جب نماز سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے (اے اللہ میرے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما اور میرے ظاہر اور پوشیدہ گناہ اور وہ بھی جو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تو ہی مقدم اور مؤخر ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہمارے بعض اصحاب اور امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسی پر عمل ہے۔ اہل کوفہ میں سے بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ دعائیں نوافل میں پڑھی جائیں فرائض میں نہیں۔ میں نے ابواسمعیل ترمذی سے سنا وہ سلیمان بن داؤد ہاشمی کا قول نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ حدیث ذکر کی اور فرمایا کہ یہ حدیث ہمارے نزدیک زہری کی سالم سے ان کے والد کے حوالے سے منقول حدیث کے مثل ہے۔

Sayyidina Ali ibn Talib reported that when Allah’s Messenger r1 stood for fard salah, he raised his hand up to his shoulders. When he finished the recital (of the Qur’an) and went in to ruku, he did that again. He did the same thing on raising his head from ruku. Buthe did not raise his hand on any posture when he was sitting down. When he got up from the two postures, he raised his hands in the same way, saying Allahu Akbar. When he began the salah, after the takbir, he would say: Translation as in the preceding hadith up to “la manja” whereafter: There is no shelter from You and no place of refuge except by having recourse to You. I seek Your forgiveness and repent to You. Then he recited (the Quran). When he bowed down into ruku, his words in ruku were: O Allah, I bow down for you, and in you do I believe, and to you do I submit. Humbled before you are my hearing, my sight, my marrow, my bénes and my nerves. When he raised his head from the ruku, he said: Allah hears He who glorified him and he followed it with: O Allah, our Lord, for You is all praise as fills up the heavens and the earths and that which is between them, and fills up that which You wish of anything (besites these). Then he prostrated and said: O Allah, to You do. I prostrate and in You do I believe and to You do I submit. My face prostrated to Him Who created it and fashioned it, and opened in it its hearing and its sight. So blessed is Allah the Best of all Creators! When he had finished offering the salah, he said: O Allah, forgive me that which I have hastened and that which I have delayed (of sins), what I have concealed and what I have disclosed, and that which you know of it better than I do. You are the One Who advances and You are The One Who delays. There is no God, but You. --------------------------------------------------------------------------------

Permalink

See the full chapter: باب اسی متعلق