TrueHadith

Mishkat Sharif, Hadith #1910110 · Explanation of Faith

Mishkat SharifHadith (internal ref #1910110)

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ تَکَلَّمَ فِیْ شَیْیءِ مِنَ الْقَدَرِ یُسْئَلُ عَنْہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ لَّمْ یَتَکَلَّمْ فِیْہِ لَمْ یُسْئَلْ عَنْہُ۔ (رواہ ابن ماجہ)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تقدیر کے مسئلے میں بحث ومباحثہ کرے گا قیامت میں اس سے باز پرس ہوگی اور جو (شخص اس پر ایمان لا کر ) خاموشی اختیار کرے گا وہ اس مواخذہ سے بچ جائے گا۔ تشریح اس حدیث کا مقصد تقدیر کے مسئلہ میں غور و فکر اور تحقیق و تجسس سے منع کرنا ہے کہ اللہ کے اس راز میں جو بندوں پر ظاہر نہ کرنا ہی مصلحت خداوندی ہے زیادہ بحث و مباحثہ کرنا یا اپنی عقل کی پیروی کرنا آخرت کے لیے کوئی کار آمد نہیں ہے بلکہ اس مسئلہ میں کسی قسم کا غور و فکر یا تحقیق و تجسس خسران آخرت اور قیامت میں باز پرس کا باعث ہے اس لیے فلاح و سعادت اسی میں ہے کہ تقدیر پر ایمان لایا جائے اور خاموشی اختیار کر کے عمل میں مصروف رہے۔

-

Permalink

See the full chapter: تقدیر پر ایمان لانے کا بیان