TrueHadith

Mishkat Sharif, Hadith #1910335 · Explanation of Purification

Mishkat SharifHadith (internal ref #1910335)

وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ لَا یَخْرُجُ الرَّجُلَانِ یَضْرِبَانِ الْغَائِطَ کَا شِفَیْنِ عَنْ عَوْرَتِھِمَا یَتَحَدَّثَانِ فَاِنَّ اﷲَ یَمْقُتُ عَلَی ذٰلِکَ۔(رواہ مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد و ابن ماجۃ)

" اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ( ایک ساتھ) دو آدمی پاخانہ کے لیے (اس طرح) نہ جائیں کہ دونوں اپنی شرم گاہ کھولے ہوئے ہوں اور باتیں کرتے ہوئے ہوں کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ غصب ناک ہو جاتا ہے۔" (مسند احمد بن حنبل ابوداؤد و ابن ماجہ) تشریح : مردوں اور عورتوں کے لیے یہ حرام ہے کہ وہ پاخانہ کے لیے اس طرح بیٹھیں کہ ایک دوسرے کی شرم گاہیں دیکھیں اسی طرح ایسی حالت میں آپس میں باتیں کرنا بھی مکروہ ہے یہ دونوں چیزیں غضب خداوندی کا سبب اور اس کے عتاب کا باعث ہیں۔ اس موقع پر اس تکلیف دہ صورت حال کی وضاحت ضروری ہے کہ آج کل عورتوں میں خصوصیت سے ایسی بد احتیاتیاں پائی جاتی ہیں عموماً ایسا ہوتا ہے کہ عورتیں آپس میں ایک دوسری کے سامنے ستر کھولنے کو قطعا معیوب نہیں سمجھتیں خصوصاً غسل اور پاخانہ کے وقت اس قسم کی شرمناک حرکتیں عام طور پر کرتی ہیں، ایسی عورتوں کو چاہئے کہ وہ اس حدیث کو غور سے پڑھیں اور پھر سمجھیں کہ وہ ایسی ناشائستہ اور شرم و حیا کے منافی چیزوں کے ارتکاب سے اللہ کا غضب مول رہی ہیں اور اس کے عتاب کا باعث ہو رہی ہیں۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ پاخانہ کرتے وقت اور جماع (ہم بستری) کے وقت زبان سے ذکر اللہ نہ کیا جائے بلکہ دم کے ساتھ کیا جائے۔

-

Permalink

See the full chapter: پاخانہ کے آداب کا بیان