TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 12604 · A B C

Musnad AhmadHadith 12604

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ ابْنًا لِأُمِّ سُلَيْمٍ صَغِيرًا كَانَ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهِ ضَاحَكَهُ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ مَا بَالُ أَبِي عُمَيْرٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ نُغَيْرُهُ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا کیا بات ہے ابوعمیر! غمگین دکھائی دے رہا ہے؟گھر والوں نے بتایا کہ اس کی ایک چڑیا مر گئی جس کے ساتھ یہ کھیلتا تھا، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہنے لگے اے ابوعمیر! کیا کیا نغیر؟ (چڑیا، جو مرگئی تھی)

-

Permalink

See the full chapter: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات