TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 13040 · A B C

Musnad AhmadHadith 13040

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ قَالَ بَلَغَ مُصْعَبَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ عَرِيفِ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ فَهَمَّ بِهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اسْتَوْصُوا بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا أَوْ قَالَ مَعْرُوفًا اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ فَأَلْقَى مُصْعَبٌ نَفْسَهُ عَنْ سَرِيرِهِ وَأَلْزَقَ خَدَّهُ بِالْبِسَاطِ وَقَالَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّأْسِ وَالْعَيْنِ فَتَرَكَهُ

علی بن زید کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کو انصار کے ایک سردار سے کوئی ایسی چیز پہنچی جس کی بناء پر مصعب نے اس سے سمجھنے کا ارادہ کر لیا، اسی اثناء میں حضرت انس رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے آئے اور کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انصار سے اچھا سلوک کرنے کی وصیت پر عمل کرو، ان کی نیکوں کی نیکی قبول کرو، اور ان کے گناہگاروں سے درگذر کیا کرو، یہ سن کر مصعب نے اپنے آپ کو تخت پر گرا لیا اور اپنے رخسار کو تکیے سے لگا لیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سر آنکھوں پر، اور اسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات