TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 13547 · A B C

Musnad AhmadHadith 13547

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ بِمِنًى أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ شِقَّ رَأْسِهِ فَحَلَقَ الْحَجَّامُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَجْعَلُهُ فِي مِسْكِهَا وَكَانَ يَجِيءُ فَيَقِيلُ عِنْدَهَا عَلَى نِطْعٍ وَكَانَ مِعْرَاقًا فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ الْعَرَقَ وَتَجْعَلُهُ فِي قَارُورَةٍ لَهَا فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَجْعَلِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَرَقُكَ أُرِيدُ أَنْ أَدُوفَ بِهِ طِيبِي

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے ، پھر وہ بال ام سلیم اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنی خوشبو میں ڈال کر ہلا لیا کرتی تھیں ۔ نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں جا کر چمڑے کے ایک بستر پر آرام فرماتے تھے، اس پر پسینہ بہت آتا تھا، ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ایک شیشی میں جمع کرنے لگیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوگئے اور فرمایا اے ام سلیم! کیا کر رہی ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی! آپ کے پسینے کو اپنی خوشبو میں شامل کروں گی۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات