Musnad Ahmad — Hadith 15022
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ عُرْوَةَ وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولَانِ سَمِعْنَا حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ يَقُولُ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى
حضرت حکیم بن حزام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مال کی درخواست کی اور کئی مرتبہ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حکیم یہ مال سرسبز وشیریں ہو تا ہے جو شخص اس کے حق کے ساتھ وصول کرتا ہے اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور جو شخص اشراف نفس کے ساتھ اسے حاصل کرتا ہے اس کےلیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور وہ شخص اس کی طرح ہوتا ہے جوکھاتا ہے اور سیراب نہ ہو اور اوپر والاہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہترہوتاہے۔
-