Musnad Ahmad — Hadith 15158
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الزُّهْرِيُّ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُؤَذِّنٌ وَاحِدٌ فِي الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا فِي الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهَا يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ قَالَ كَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ إِذَا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيُقِيمُ إِذَا نَزَلَ وَلِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَتَّى كَانَ عُثْمَانُ
حضرت سائب بن یزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں صرف ایک موذن تھا جو تمام نمازوں اور جمعہ وغیرہ میں اذان بھی دیتا تھا اوراقامت بھی وہی کہتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن جب منبر پر رونق افروز ہوجاتے تو حضرت بلال اذان دیتے تھے اور جب آپ منبر سے نیچے اترتے تو وہی اقامت کہتے تھے حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر کے زمانے تک ایسا ہوتارہا یہاں تک کہ حضرت عثمان کا دور آ گیا۔
-