TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 15505 · A B C

Musnad AhmadHadith 15505

قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ يَزِيدَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ وَلَا يُصِيبُ بَعْضُكُمْ وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ فَرَمَى بِسَبْعٍ وَلَمْ يَقِفْ وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ

حضرت ام سلیمان بن احوص سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگوں ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا، ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اسے کے لیے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات کنکریاں ماریں اور وہاں رکے نہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی تھا جو آپ کے لیے آڑ کا کام کرتا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے تو لوگوں نے بتایا کہ یہ فضل بن عباس ہیں۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت ام سلیمان بن عمرو بن احوص کی حدیثیں ۔