TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 15522 · A B C

Musnad AhmadHadith 15522

قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ عَمْرِو بْنِ الزُّبَيْرِ خُصُومَةٌ فَدَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ عَلَى سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ وَعَمْرُو بْنُ الزُّبَيْرِ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَقَالَ سَعِيدٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ هَاهُنَا فَقَالَ لَا قَضَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْخَصْمَيْنِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيْ الْحَكَمِ

مصعب بن ثابت کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن زبیر اور ان کے بھائی عمرو بن زبیر میں کچھ جھگڑا چل رہا تھا اس دوران حضرت عبداللہ بن زبیر ایک مرتبہ سعید بن عاص کے پاس گئے ان کے ساتھ تخت پر عمرو بن زبیر بھی بیٹھے ہوئے تھے سعید نے انہیں بھی اپنے قریب بلایا لیکن انہوں نے انکار کردیا اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ اور سنت یہ ہے کہ دونوں فریق حاکم کے سامنے بیٹھیں۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت عبداللہ بن زبیر بن عوام کی مرویات۔