TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 15532 · A B C

Musnad AhmadHadith 15532

قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ خَاصَمَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ الزُّبَيْرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلزُّبَيْرِ سَرِّحْ الْمَاءَ فَأَبَى فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الْجُدُرِ قَالَ الزُّبَيْرُ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ إِلَى قَوْلِهِ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

حضرت عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زبیر سے ایک انصاری کا جھگڑا ہو گیا جو پانی کی اس نالی کے حوالے سے تھا جس سے وہ اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے تھے انصاری کا کہنا تھا کہ پانی چھوڑ دو لیکن حضرت زبیر پہلے اپنے باغ سیراب کیے بغیر پانی چھوڑنے پر رضی نہ تھے انصاری نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زبیر اپنے کھیت کو پانی لگا کر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو اس پر انصاری کو غصہ آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں ناں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روئے انور یہ سن کر متغیر ہو گیا اور آپ نے فرمایا کہ اس وقت تک پانی روکے رکھو جب تک ٹخنوں کے برابر پانی نہ آجائے حضرت زبیر کہتے ہیں کہ خدا کی قسم میں سمجھتاہوں کہ یہ آیت اسی واقعے کے متعلق نازل ہوئی کہ آپ کے رب کی قسم یہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے درمیان پائے جانے والے اختلافات میں آپ کوثالث نہ بنا لیں۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت عبداللہ بن زبیر بن عوام کی مرویات۔