TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 17546 · A B C

Musnad AhmadHadith 17546

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَنِي الْإِسْلَامَ وَنَعَتَ لِي الصَّلَاةَ وَكَيْفَ أُصَلِّي كُلَّ صَلَاةٍ لِوَقْتِهَا ثُمَّ قَالَ لِي كَيْفَ أَنْتَ يَا ابْنَ حَاتِمٍ إِذَا رَكِبْتَ مِنْ قُصُورِ الْيَمَنِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللَّهَ حَتَّى تَنْزِلَ قُصُورَ الْحِيرَةِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ مَقَانِبُ طَيِّئٍ وَرِجَالُهَا قَالَ يَكْفِيكَ اللَّهُ طَيِّئًا وَمَنْ سِوَاهَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ نَتَصَيَّدُ بِهَذِهِ الْكِلَابِ وَالْبَزَاةِ فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنْهَا قَالَ يَحِلُّ لَكُمْ مَا عَلَّمْتُمْ مِنْ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمْ اللَّهُ فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَمَا عَلَّمْتَ مِنْ كَلْبٍ أَوْ بَازٍ ثُمَّ أَرْسَلْتَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ قُلْتُ وَإِنْ قَتَلَ قَالَ وَإِنْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ قُلْتُ أَفَرَأَيْتَ إِنْ خَالَطَ كِلَابَنَا كِلَابٌ أُخْرَى حِينَ نُرْسِلُهَا قَالَ لَا تَأْكُلْ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّ كَلْبَكَ هُوَ الَّذِي أَمْسَكَ عَلَيْكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَمَا يَحِلُّ لَنَا قَالَ لَا تَأْكُلْ مَا أَصَبْتَ بِالْمِعْرَاضِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کی تعلیم دی اور نماز کی کیفیت مجھے بتائی کہ کس طرح ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کروں پھر مجھ سے فرمایا اے ابن حاتم ! اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تم یمن کے محلات سے سوار ہوگے تمہیں اللہ کے علاوہ کسی کا خوف نہ ہوگا یہاں تک کہ تم حیرہ کے محلات میں جا اترو گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قبیلہ طی کے بہادر اور جنگجو پھر کہاں جائیں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ بنوطی وغیرہ سے تمہاری کفایت فرمائیں گے۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ ان کتوں اور باز کے ذریعے شکار کرتے ہیں تو اس میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی جو کتے سدھائے ہوئے ہوں اور جو زخمی کرسکیں اور جنہیں تم نے یہ علم سکھا دیا ہو جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے تو وہ تمہارے لیے جو شکار کریں اسے تم کھاسکتے ہو اور ان پر اللہ کا نام لے لیا کرو " اور فرمایا تم نے جس کتے یا باز کو سدھا لیا ہو'پھر تم اسے اللہ کا نام لے کر چھوڑو تو جو وہ تمہارے لیے شکار کرے تم اسے کھالو، میں نے پوچھا اگرچہ وہ جانور کو مار ڈالے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! اگرچہ وہ جانور کو مار ڈالے لیکن اس میں سے خودکچھ نہ کھائے اس لئے کہ اگر اس نے خود اس میں سے کچھ کھا لیا تو اس نے وہ شکار اپنے لیے کیا ہے (لہٰذاتمہارے لیے حلال نہیں )میں نے پوچھا کہ بتائیے اگر ہمارے کتے کے ساتھ کچھ دوسرے کتے آملیں تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شکار کو مت کھاؤ جب تک تمہیں یہ معلوم نہ ہوجائے کہ اسے تمہارے کتے ہی نے شکار کیا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم لوگ چوڑائی کے حصے میں تیر مارتے ہیں تو اس میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس جانور کو تم نے تیر کے چوڑائی والے حصے سے مارا ہو اسے مت کھاؤ الاّیہ کہ اس کی روح نکلنے سے پہلے اسے ذبح کرلو۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ کی حدیثیں