Musnad Ahmad — Hadith 17596
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِيَةَ الْعَنَزِيِّ قَالَ تَدَارَأَ عَمَّارٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي التَّيَمُّمِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ مَكَثْتُ شَهْرًا لَا أَجِدُ فِيهِ الْمَاءَ لَمَا صَلَّيْتُ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الْإِبِلِ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَقَالَ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ التَّيَمُّمُ
ناجیہ عنزی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جنبی کے تیمم کرنے کے مسئلہ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ اگر جنابت کے بعد مجھے ایک مہینے تک پانی نہ ملے تب بھی میں غسل کیے بغیر نماز نہیں پڑھوں گا حضرت عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے کیا آپ کو وہ واقعہ یاد نہیں ہے جب ایک مرتبہ میں اور آپ اونٹوں کے ایک باڑے میں تھے رات کو مجھ پر غسل واجب ہوگیا تو میں جانور کی طرح مٹی پر لوٹ پوٹ ہو گیا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپسی ہوئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے تو تیمم ہی کافی تھا۔
-