TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 18290 · A B C

Musnad AhmadHadith 18290

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ الصُّنَابِحِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ فَإِذَا طَلَعَتْ قَارَنَهَا فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا وَيُقَارِنُهَا حِينَ تَسْتَوِي فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا فَصَلُّوا غَيْرَ هَذِهِ السَّاعَاتِ الثَّلَاثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ بِحَدِيثِ الشَّمْسِ

حضرت صنابحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے جب وہ بلند ہوجاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہوجاتا ہے جب سورج وسط میں پہنچتا ہے تو پھر اس کے قریب آجاتا ہے اور زوال کے وقت جدا ہوجاتا ہے پھر جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ قریب آجاتا ہے اور غروب کے بعد پھر جدا ہوجاتا ہے اس لئے ان تین اوقات میں نماز مت پڑھا کرو ۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت ابو عبداللہ صنابحی رضی اللہ عنہ کی حدیثیں