TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 18382 · A B C

Musnad AhmadHadith 18382

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو جَنَابٍ عَنْ زَاذَانَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا بَرَزْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ إِذَا رَاكِبٌ يُوضِعُ نَحْوَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّ هَذَا الرَّاكِبَ إِيَّاكُمْ يُرِيدُ قَالَ فَانْتَهَى الرَّجُلُ إِلَيْنَا فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ قَالَ مِنْ أَهْلِي وَوَلَدِي وَعَشِيرَتِي قَالَ فَأَيْنَ تُرِيدُ قَالَ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَدْ أَصَبْتَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مَا الْإِيمَانُ قَالَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ قَالَ قَدْ أَقْرَرْتُ قَالَ ثُمَّ إِنَّ بَعِيرَهُ دَخَلَتْ يَدُهُ فِي شَبَكَةِ جُرْذَانٍ فَهَوَى بَعِيرُهُ وَهَوَى الرَّجُلُ فَوَقَعَ عَلَى هَامَتِهِ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ بِالرَّجُلِ قَالَ فَوَثَبَ إِلَيْهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ وَحُذَيْفَةُ فَأَقْعَدَاهُ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قُبِضَ الرَّجُلُ قَالَ فَأَعْرَضَ عَنْهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا رَأَيْتُمَا إِعْرَاضِي عَنْ الرَّجُلَيْنِ فَإِنِّي رَأَيْتُ مَلَكَيْنِ يَدُسَّانِ فِي فِيهِ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ مَاتَ جَائِعًا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا وَاللَّهِ مِنْ الَّذِينَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمْ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ قَالَ ثُمَّ قَالَ دُونَكُمْ أَخَاكُمْ قَالَ فَاحْتَمَلْنَاهُ إِلَى الْمَاءِ فَغَسَّلْنَاهُ وَحَنَّطْنَاهُ وَكَفَّنَّاهُ وَحَمَلْنَاهُ إِلَى الْقَبْرِ قَالَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ قَالَ فَقَالَ أَلْحِدُوا وَلَا تَشُقُّوا فَإِنَّ اللَّحْدَ لَنَا وَالشَّقَّ لِغَيْرِنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ زَاذَانَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ فَبَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ إِذْ رَفَعَ لَنَا شَخْصٌ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَقَعَتْ يَدُ بَكْرِهِ فِي بَعْضِ تِلْكَ الَّتِي تَحْفِرُ الْجُرْذَانُ وَقَالَ فِيهِ هَذَا مِمَّنْ عَمِلَ قَلِيلًا وَأُجِرَ كَثِيرًا

حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے جب مدینہ منورہ سے نکلے تو دیکھا کہ ایک سوار ہماری طرف دوڑتا ہوا آرہاہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسالگتا ہے کہ یہ سوارتمہارے پاس آرہاہے اور وہی ہوا کہ وہ آدمی ہمارے قریب آپہنچا اس نے سلام کیا ہم نے اسے جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں سے آرہے ہو؟ اس نے کہا اپنے گھربار، اور اولاد اور خاندان سے نکل کر آرہاہوں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان تک پہنچ چکے ہو اس نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے یہ بتائیے کہ ایمان کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات کبی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو ، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو اس نے کہا کہ میں ان سب چیزوں کا اقرار کرتا ہوں ۔تھوڑی دیربع اس کے اونٹ کا کھر کسی جنگلی چوہے کے بل میں داخل ہوگیا اس کے اونٹ نے اسے زور سے نیچے پھین کا اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو اٹھا کر میرے پاس لاؤ تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تیزی سے اس کی طرف لپکے اور اسے بٹھایا پھر کہنے لگے یا رسول اللہ ! یہ توفوت ہوچکاہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض کیا اور تھوڑی دیر بعد فرمایا جب میں نے تم دونوں سے اعراض کیا تو میں اس وقت دو فرشتوں کو دیکھ رہا تھا جو اس کے منہ میں جنت کے پھل ٹھونس رہے تھے جس سے معلوم ہوگیا کہ یہ بھوک کی حالت میں فوت ہواہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخدا! یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا " وہ لوگ جوایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کےساتھ نہیں ملایا انہی لوگوں کو امن ملے گا اور یہی ہدایت یافتہ ہوں گے" پھر فرمایا اپنے بھائی کو سنبھالو، چنانچہ ہم اسے اٹھا کر پانی کے قریب لے گئے اسے غسل دیا، حنوط لگائی ، کفن دیا اور اٹھا کر قبرستان لے گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمایا اس لیے بغلی قبر کھودو، صندوقی قبر نہیں ، کیونکہ بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبردوسروں کے لئے ہے۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت جریربن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی مرویات