TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 18536 · A B C

Musnad AhmadHadith 18536

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَجْلَحَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ نَفَرًا وَطِئُوا امْرَأَةً فِي طُهْرٍ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لِاثْنَيْنِ مِنْهُمْ أَتَطِيبَانِ نَفْسًا لِذَا فَقَالَا لَا فَأَقْبَلَ عَلَى الْآخَرَيْنِ فَقَالَ أَتَطِيبَانِ نَفْسًا لِذَا فَقَالَا لَا قَالَ أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ قَالَ إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ فَأَيُّكُمْ قُرِعَ أَغْرَمْتُهُ ثُلُثَيْ الدِّيَةِ وَأَلْزَمْتُهُ الْوَلَدَ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا مَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے تو ان کی پاس ایک عورت کو لایا گیا جس سے ایک ہی طہر میں تین آدمیوں نے بدکاری کی تھی انہوں نے ان میں سے دو آدمیوں سے پوچھا کہ کیا تم اس شخص کے لئے بچے کا اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے اقرار نہیں کیا اسی طرح ایک ایک کے ساتھ دوسرے کو ملاکرسوال کرتے رہے یہاں تک کہ اس مرحلے سے فارغ ہوگئے اور کسی نے بھی بچے کا اقرار نہیں کیا پھر انہوں نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور قرعہ میں جس کا نام نکل آیابچہ اس کا قرار دے دیا اور اس پردوتہائی دیت مقرر کردی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی اس کا حل وہی جانتاہوں جو علی نے بتایاہے۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی مرویات