TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 18689 · A B C

Musnad AhmadHadith 18689

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ سَعِيدِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَرَجَعَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ فِي أَثَرِهِ لِمَ رَجَعْتَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُجَبْ فَلْيَرْجِعْ

حضرت ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تین مرتبہ سلام کیا، انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ واپس چلے گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پیچھے قاصد کو بھیجا کہ واپس کیوں چلے گئے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم میں سے کوئی شخص تین مرتبہ سلام کرچکے اور اسے جواب نہ ملے تو اسے واپس لوٹ جانا چاہئے ۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مرویات