TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 19850 · A B C

Musnad AhmadHadith 19850

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَرْجِسَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْتُ مَعَهُ مِنْ طَعَامِهِ فَقُلْتُ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْتُ أَسْتَغْفَرَ لَكَ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ قَالَ نَعَمْ وَلَكُمْ وَقَرَأَ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى نُغْضِ كَتِفِهِ الْأَيْمَنِ أَوْ كَتِفِهِ الْأَيْسَرِ شُعْبَةُ الَّذِي يَشُكُّ فَإِذَا هُوَ كَهَيْئَةِ الْجُمْعِ عَلَيْهِ الثَّآلِيلُ

حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے متعلق فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دی ہے اور آپ کے ہمراہ کھانا کھایا ہے میں نے ان سے عرض کیا یا رسول اللہ اللہ کی بخشش فرمائے راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لیے بھی استغفار کیا تھا انہوں نے کہا ہاں اور تمہارے لیے بھی کیا تھا پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی "اپنی لغزشات اور مومن مردروں اور عورتوں کے لیے بخشش کی دعا کیجیے" پھر دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی ہے جو بائیں کندھے کے کونے میں مٹھی کیطرح تھی انہوں نے مٹھی بنا کر اشارہ کرکے دکھایا اور اس میں مہر نبوت پر مسوں کی طرح ابھرے ہوئے تل تھے۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کی حدیثیں۔