TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 20222 · A B C

Musnad AhmadHadith 20222

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَالَ قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَلَمْ تُقْرِئْنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا قَالَ بَلَى فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَلَمْ تُقْرِئْنِيهَا كَذَا وَكَذَا فَقَالَ بَلَى كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ مُجْمِلٌ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ فَضَرَبَ صَدْرِي فَقَالَ يَا أُبَيُّ بْنَ كَعْبٍ إِنِّي أُقْرِئْتُ الْقُرْآنَ فَقِيلَ لِي عَلَى حَرْفٍ أَوْ عَلَى حَرْفَيْنِ قَالَ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي عَلَى حَرْفَيْنِ فَقُلْتُ عَلَى حَرْفَيْنِ فَقَالَ عَلَى حَرْفَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فَقَالَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعِي عَلَى ثَلَاثَةٍ فَقُلْتُ عَلَى ثَلَاثَةٍ حَتَّى بَلَغَ سَبْعَةَ أَحْرُفٍ لَيْسَ مِنْهَا إِلَّا شَافٍ كَافٍ إِنْ قُلْتَ غَفُورًا رَحِيمًا أَوْ قُلْتَ سَمِيعًا عَلِيمًا أَوْ عَلِيمًا سَمِيعًا فَاللَّهُ كَذَلِكَ مَا لَمْ تَخْتِمْ آيَةَ عَذَابٍ بِرَحْمَةٍ أَوْ آيَةَ رَحْمَةٍ بِعَذَابٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَرَأْتُ آيَةً وَقَرَأَ ابْنُ مَسْعُودٍ خِلَافَهَا وَقَرَأَ رَجُلٌ آخَرُ خِلَافَهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ

حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نے ایک آیت پڑھی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے کسی دوسرے طریقے سے پڑھ رہے تھے میں حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ نے فلاں آیت مجھے اس اس طرح نہیں پڑھائی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں میں نے عرض کیا کہ یہ شخص دعوی کرتا ہے آپ نے اسے یہی آیت دوسری طرح پڑھائی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر اپنا ہاتھ مارا جس سے وہ تمام وساوس دور ہوگئے اور اس کے بعد کبھی مجھے ایسے وسوسے نہ آئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبریل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام آئے تھے حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا کہ قرآن کریم کو ایک حرف پر پڑھئے حضرت میکائیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ ان سے اضافے کی درخواست کیجئے حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا کہ اسے دو حرفوں پر پڑھئے حضرت میکائیل علیہ السلام نے پھر کہا کہ ان سے اضافے کی درخواست کیجئے یہاں تک کہ سات حروف تک پہنچ گئے اور فرمایا ان میں سے ہر ایک کافی شافی ہے اگر تم غفورًا رحیماً یا سمیعًاعلیمًایاعلیمًاسمیعًا کہہ دیتے ہو تو اللہ اسی طرح ہے بشرطیکہ تم آیت عذاب کو رحمت سے یا آیت رحمت کو عذاب سے تبدیل نہ کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: وہ حدیثیں جو سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہیں ۔