TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 22785 · A B C

Musnad AhmadHadith 22785

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادٍ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْكِنْدِيُّ عَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ وَأَصْبَحَ جِدًّا قَالَ فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ بَيْنَ أَذَانِهِ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا خَرَجَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا ثُمَّ إِنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ فَقَالَ إِنِّي رَكَعْتُ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قَدْ أَصْبَحْتَ جِدًّا قَالَ لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ فَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا

حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز فجر کی اطلاع دینے کے لئے آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کچھ پوچھنے میں الجھا دیا حتیٰ کہ روشنی ہونے لگی اور خوب روشنی پھیل گئی حضرت بلال رضی اللہ عنہ اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع دینے گئے اور مسلسل مطلع کرتے رہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف نہ لائے تھوڑی دیربعد خود ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان سے کچھ پوچھنے لگی تھیں جس کی وجہ سے صبح ہونے لگی تھی پھر آپ نے بھی باہر تشریف لانے میں تاخیر فرمائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں فجر کی سنتیں پڑھ رہا تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تو صبح خوب روشن ہوگئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس سے بھی زیادہ روشنی پھیل جاتی تب بھی میں انہیں خوب سنوار کر اور خوبصورت کر کے ضرور پڑھتا۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی حدیثیں ۔