Musnad Ahmad — Hadith 25572
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ السَّبَّاقِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاثِرًا فَقِيلَ لَهُ مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصْبَحْتَ خَاثِرًا قَالَ وَعَدَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام أَنْ يَلْقَانِي فَلَمْ يَلْقَنِي وَمَا أَخْلَفَنِي فَلَمْ يَأْتِهِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَلَا الثَّانِيَةَ وَلَا الثَّالِثَةَ ثُمَّ اتَّهَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَرْوَ كَلْبٍ وَكَانَ تَحْتَ نَضَدِنَا فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ مَاءً فَرَشَّ مَكَانَهُ فَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ وَعَدْتَنِي فَلَمْ أَرَكَ قَالَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ فَأَمَرَ يَوْمَئِذٍ بِقَتْلِ الْكِلَابِ قَالَ حَتَّى كَانَ يُسْتَأْذَنُ فِي كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ فَيَأْمُرُ بِهِ أَنْ يُقْتَلَ
حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صبح کے وقت ہی نبی علیہ السلام کی طبیعت بوجھل محسوس ہوئی تو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ کیا بات ہے کہ آج صبح ہی آپ کی طبیعت بوجھل محسوس ہو رہی ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا مجھ سے حضرت جبریل علیہ السلام نے ملاقات کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ آئے نہیں حالانکہ انہوں نے کبھی خلاف وعدہ نہیں کیا تین راتوں تک جبریل نہ آئے پھر نبی علیہ السلام نے ہماری چارپائی کے نیچے کتے کے ایک پلے کو اس کا سبب قرار دیا چنانچہ نبی علیہ السلام کے حکم پر اسے نکال دیا گیا اور پانی لے کر وہاں بہا دیا گیا تھوڑی ہی دیر میں حضرت جبریل علیہ السلام آگئے نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ آپ نے مجھ سے آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن نظر نہیں آئے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو تو نبی علیہ السلام نے اسی دن کتوں کو مارنے کا حکم دیدیا حتی کہ اگر کوئی شخص اپنے باغ کی حفاظت کے لئے چھوٹے کتے کی اجازت بھی مانگتا تو نبی علیہ السلام اسے بھی قتل کرنے کا حکم دیتے تھے۔
-