Musnad Ahmad — Hadith 25582
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْبُوذٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ فَأَتَاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ مَا لَكَ شَعِثًا رَأْسُكَ قَالَ أُمُّ عَمَّارٍ مُرَجِّلَتِي حَائِضٌ قَالَتْ أَيْ بُنَيَّ وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنْ الْيَدِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ فَيَضَعُ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهَا فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهِيَ حَائِضٌ ثُمَّ تَقُومُ إِحْدَانَا بِخُمْرَتِهِ فَتَضَعُهَا فِي الْمَسْجِدِ وَهِيَ حَائِضٌ أَيْ بُنَيَّ وَأَيْنَ الْحَيْضَةُ مِنْ الْيَدِ
حضرت میمونہ کے پاس ایک مرتبہ ان کے بھانجے حضرت ابن عباس آئے وہ کہنے لگیں بیٹا کیا بات ہے کہ تمہارے بال بکھرے ہوئے نظر آرہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے کنگھی کرنیوالی ام عمار ایام سے ہے حضرت میمونہ نے فرمایا بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق نبی علیہ السلام ہم میں سے کسی کے پاس تشریف لاتے اور وہ ایام سے ہوتی تو نبی علیہ السلام اس کی گود میں اپنا سر رکھ کر جبکہ وہ ایام سے ہوتی تھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے پھر وہ کھڑی ہو کر نبی علیہ السلام کے لئے چٹائی بچھاتی اور اسی حال میں نبی علیہ السلام کی نماز پڑھنے کی جگہ اسے رکھ دیتی تھی بیٹا ایام کا ہاتھوں سے کیا تعلق؟
-