Musnad Ahmad — Hadith 25680
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَفْرِدُوا بِالْحَجِّ وَدَعُوا قَوْلَ هَذَا يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ الْعَبَّاسِ أَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ عَنْ هَذَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَالَتْ صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا فَأَمَرَنَا فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً فَحَلَّ لَنَا الْحَلَالُ حَتَّى سَطَعَتْ الْمَجَامِرُ بَيْنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ
مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں حج افراد کیا کرو اور ابن عباس کی بات چھوڑ دو، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آپ اپنی والدہ سے کیوں نہیں پوچھ لیتے چنانچہ انہوں نے ایک قاصد حضرت اسماء کی طرف بھیجا تو انہوں نے فرمایا ابن عباس سچ کہتے ہیں ، ہم لوگ نبی علیہ السلام کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے تھے نبی علیہ السلام نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اسے عمرے کا احرام بنا لیا اور ہمارے لئے تمام چیزیں حسب سابق حلال ہو گئیں حتی کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان انگیٹھیاں بھی دہکائی گئیں۔
-