Musnad Ahmad — Hadith 25704
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا نَزَلَتْ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ فَقَالَتْ أَيْ بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ لَيْلَةَ جَمْعٍ وَهِيَ تُصَلِّي قُلْتُ لَا فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ أَيْ بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قَالَ وَقَدْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ فَارْتَحِلُوا فَارْتَحَلْنَا ثُمَّ مَضَيْنَا بِهَا حَتَّى رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتْ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا أَيْ هَنْتَاهُ لَقَدْ غَلَّسْنَا قَالَتْ كَلَّا يَا بُنَيَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ
عبداللہ جو حضرت اسماء کے آزاد کردہ غلام ہیں سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے دار مزدلفہ کے قریب پڑاؤ کیا اور پوچھا کہ بیٹا کیا چاند غروب ہو گیا یہ مزدلفہ کی رات تھی اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں ، میں نے کہا ابھی نہیں وہ کچھ دیرتک مزید نماز پڑھتی رہیں پھر پوچھا بیٹاچاند چھپ گیا؟ اس وقت تک چاند غائب ہوچکا تھا لہذا میں نے کہہ دیا جی ہاں ! انہوں نے فرمایا پھر کوچ کرو چنانچہ ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوگئے اور منی پہنچ کر جمرہ عقبہ کی رمی کی اور اپنے خیمے میں پہنچ کر فجر کی نماز ادا کی میں نے ان سے عرض کیا کہ ہم تو منہ اندھیرے ہی مزدلفہ سے نکل آئے، انہوں نے فرمایا ہرگز نہیں بیٹے نبی علیہ السلام نے خواتین کو جلدی چلے جانے کی اجازت دی ہے۔
-