Musnad Ahmad — Hadith 25718
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي طُوًى قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لِابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ أَيْ بُنَيَّةُ اظْهَرِي بِي عَلَى أَبِي قَبِيسٍ قَالَتْ وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ قَالَتْ فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا بُنَيَّةُ مَاذَا تَرَيْنَ قَالَتْ أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا قَالَ تِلْكَ الْخَيْلُ قَالَتْ وَأَرَى رَجُلًا يَسْعَى بَيْنَ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا قَالَ يَا بُنَيَّةُ ذَلِكَ الْوَازِعُ يَعْنِي الَّذِي يَأْمُرُ الْخَيْلَ وَيَتَقَدَّمُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ قَدْ وَاللَّهِ انْتَشَرَ السَّوَادُ فَقَالَ قَدْ وَاللَّهِ إِذَا دَفَعَتْ الْخَيْلُ فَأَسْرِعِي بِي إِلَى بَيْتِي فَانْحَطَّتْ بِهِ وَتَلَقَّاهُ الْخَيْلُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى بَيْتِهِ وَفِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ فَتَلَقَّاهُ الرَّجُلُ فَاقْتَلَعَهُ مِنْ عُنُقِهَا قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ يَعُودُهُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا آتِيهِ فِيهِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَمْشِيَ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تَمْشِيَ أَنْتَ إِلَيْهِ قَالَ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ أَسْلِمْ فَأَسْلَمَ وَدَخَلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ كَأَنَّهُ ثَغَامَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا هَذَا مِنْ شَعْرِهِ ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ فَقَالَ أَنْشُدُ بِاللَّهِ وَبِالْإِسْلَامِ طَوْقَ أُخْتِي فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَقَالَ يَا أُخَيَّةُ احْتَسِبِي طَوْقَكِ
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جب نبی علیہ السلام مقم ذی طوی پر پہنچ کر رکے تو ابوقحافہ نے اپنے چھوٹے بیٹے کی لڑکی سے کہا بیٹی! مجھے ابوقبیس پر لے کر چڑھو! اس وقت تک ان کی بینائی زائل ہوچکی تھی، وہ انہیں اس پہاڑ پر لے کر چڑھ گئی تو ابوقحافہ نے پوچھا بیٹی! تمہیں کیا نظر آرہاہے؟ اس نے کہا کہ ایک بہت بڑا لشکر جو اکٹھا ہو کر آیا ہوا ہے ابوقحافہ نے کہا کہ وہ گھڑ سوار لوگ ہیں ان کی پوتی کا کہنا ہے کہ میں نے اس لشکر کے آگے آگے ایک آدمی کو دوڑتے ہوئے دیکھا جو کبھی آگے آجاتا تھا اور کبھی پیچھے ابوقحافہ نے بتایا کہ وہ واضح ہو گیا یعنی وہ آدمی جو شہسواروں کو حکم دیتا اور ان سے آگے رہتاہے، وہ کہتی ہے کہ پھر وہ لشکرپھیلنا شروع ہوگیا، اس پر ابوقحافہ نے کہا بخدا پھر تو گھڑ سوار لوگ روانہ ہو گئے ہیں ، تم مجھے جلدی سے گھرلے چلو، وہ انہیں لے کرنیچے اترنے لگی لیکن قبل اس کے کہ وہ اپنے گھرتک پہنچتے لشکر وہاں تک پہنچ چکا تھا ، اس بچی کی گردن میں چاندی کا ایک ہار تھا جو ایک آدمی نے اس کی گردن میں سے اتار لیا۔جب نبی علیہ السلام مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور مسجد میں تشریف لے گئے تو حضرت صدیق اکبر بارگاہ نبوت میں اپنے والد کو لے کر حاضر ہوئے، نبی علیہ السلام نے یہ دیکھ کر فرمایا آپ انہیں گھر میں ہی رہنے دیتے، میں خود ہی وہاں چلاجاتا، حضرت صدیق اکبر نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ ان کا زیادہ حق بنتا ہے کہ یہ آپ کے پاس چل کر آئیں بہ نسبت اس کے کہ آپ ان کے پاس تشریف لے جائیں پھر انہیں نبی علیہ السلام کے سامنے بٹھادیا، نبی علیہ السلام نے ان کے سینے پرہاتھ پھیر کر انہیں قبول اسلام کی دعوت دی چنانچہ وہ مسلمان ہو گئے، جس وقت حضرت ابوبکر انہیں لیکر نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے تو ان کا سر ثغامہ نامی بوٹی کی طرح (سفید) ہوچکا تھا نبی علیہ السلام نے فرمایا ان کے بالوں کو رنگ کر دو پھر حضرت صدیق اکبر کھڑے ہوئے اور اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر کہتاہوں کہ میری بہن کا ہار واپس لوٹا دو، لیکن کسی نے اس کا جواب نہ دیا، تو حضرت صدیق اکبرنے فرمایا پیاری بہن اپنے ہار پرثواب کی امید رکھو۔
-