TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 25740 · A B C

Musnad AhmadHadith 25740

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي بُنَيَّةً عَرِيسًا وَإِنَّهُ تَمَرَّقَ شَعَرُهَا فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ جُنَاحٍ إِنْ وَصَلْتُ رَأْسَهَا وَقَالَ وَكِيعٌ تَمَرَّطَ شَعْرُهَا قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ

حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی علیہ السلام کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے یہ بیمار ہوگئی ہے، اور اس کے سرکے بال جھڑ رہے ہیں ، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں ؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق کی مرویات