TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 25803 · A B C

Musnad AhmadHadith 25803

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ عَنِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْنَبَ قَالَتْ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَتْ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلًا خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَقُلْتُ لَهُ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُجْزِئُ عَنِّي مِنْ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُلْقِيَتْ عَلَيْهِ الْمَهَابَةُ فَقَالَ اذْهَبِي أَنْتِ فَاسْأَلِيهِ قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَانْتَهَيْتُ إِلَى بَابِهِ فَإِذَا عَلَيْهِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ اسْمُهَا زَيْنَبُ حَاجَتِي حَاجَتُهَا قَالَتْ فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ قَالَتْ فَقُلْنَا لَهُ سَلْ لَنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُجْزِئُ عَنَّا مِنْ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى أَزْوَاجِنَا وَأَيْتَامٍ فِي حُجُورِنَا قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ عَلَى الْبَابِ زَيْنَبُ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ قَالَ فَقَالَ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ وَزَيْنَبُ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ تَسْأَلَانِكَ عَنْ النَّفَقَةِ عَلَى أَزْوَاجِهِمَا وَأَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا أَيُجْزِئُ ذَلِكَ عَنْهُمَا مِنْ الصَّدَقَةِ قَالَتْ فَخَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ

حضرت زینب سے مروی ہے کہ ایک دن نبی علیہ السلام نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے گروہ خواتین! میں نے دیکھا ہے کہ قیامت کے دن اہل جہنم میں تمہاری اکثریت ہوگی، اس لئے حسب استطاعت اللہ سے قرب حاصل کرنے کے لئے صدقہ خیرات کیا کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی کرو۔وہ کہتی ہیں کہ حضرت ابن مسعود مالی طور پر کمزور تھے، میں نے ان سے کہا کہ نبی علیہ السلام سے دریافت کیجئے کہ اگر میں اپنے شوہر اور اپنے زیر پرورش یتیموں پر خرچ کروں تو یہ صحیح ہو گا؟چونکہ نبی علیہ السلام کی شخصیت مرعوب کن تھی اس لئے وہ مجھ سے کہنے لگے کہ تم خود ہی جا کر ان سے پوچھ لو، میں چلی گئی وہاں زینب نام کی ایک اور انصاری عورت بھی موجود تھی اور اسے بھی وہی کام تھا جو مجھے تھا، حضرت بلال باہر آئے تو ہم نے ان سے یہ مسئلہ نبی علیہ السلام سے پوچھنے کے لئے کہا وہ اندرچلے گئے اور کہنے لگے کہ دروازے پر زینب ہے، نبی علیہ السلام نے پوچھا کون سی زینب؟ (کیونکہ یہ کئی عورتوں کا نام تھا حضرت بلال نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ، اور یہ مسئلہ پوچھ رہی ہیں ، نبی علیہ السلام ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا انہیں دوہرا اجر ملے گا، ایک رشتہ داری کا خیال رکھنے پر اور ایک صدقہ کرنے پر۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت زینب زوجہ عبداللہ بن مسعود کی حدیثیں