Musnad Ahmad — Hadith 25839
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أُمِّ عِيسَى الْجَزَّارِ عَنْ أُمِّ جَعْفَرٍ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ وَأَصْحَابُهُ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ دَبَغْتُ أَرْبَعِينَ مَنِيئَةً وَعَجَنْتُ عَجِينِي وَغَسَّلْتُ بَنِيَّ وَدَهَنْتُهُمْ وَنَظَّفْتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتِينِي بِبَنِي جَعْفَرٍ قَالَتْ فَأَتَيْتُهُ بِهِمْ فَشَمَّهُمْ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا يُبْكِيكَ أَبَلَغَكَ عَنْ جَعْفَرٍ وَأَصْحَابِهِ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ أُصِيبُوا هَذَا الْيَوْمَ قَالَتْ فَقُمْتُ أَصِيحُ وَاجْتَمَعَ إِلَيَّ النِّسَاءُ وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ لَا تُغْفِلُوا آلَ جَعْفَرٍ مِنْ أَنْ تَصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا فَإِنَّهُمْ قَدْ شُغِلُوا بِأَمْرِ صَاحِبِهِمْ
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جب حضرت جعفر اور ان کے ساتھی شہید ہو گئے تو نبی علیہ السلام میرے یہاں تشریف لائے، اس وقت میں نے چالیس کھالوں کو دباغت کے لئے ڈالا ہوا تھا آٹا گوندھ چکی تھی اور اپنے بچوں کو نہلا دھلاکرصاف ستھرا کرچکی تھی اور انہیں تیل لگاچکی تھی، نبی علیہ السلام نے آکر فرمایا جعفر کے بچوں کو میرے پاس لاؤ، میں انہیں لے کر آئی نبی علیہ السلام انہیں سونگھنے لگے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں آپ کیوں رو رہے ہیں؟ کیا جعفر اور ان کے ساتھیوں کے حوالے سے کوئی خبرآئی ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہاں ! آج وہ شہید ہوگئے ہیں یہ سن کر میں کھڑی ہو کر چیخنے لگی اور دوسری عورتیں بھی میرے پاس جمع ہونے لگیں نبی علیہ السلا نکل کر اپنے اہل خانہ کے پاس چلے گئے اور فرمایا آل جعفر سے غافل نہ رہنا ان کے لئے کھانا تیار کرو، کیونکہ وہ اپنے ساتھی کے معاملے میں مشغول ہیں۔
-