Musnad Ahmad — Hadith 25881
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلَنَّ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجِمَارَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ قَالَتْ فَرَمَى سَبْعًا ثُمَّ انْصَرَفَ وَلَمْ يَقِفْ قَالَتْ وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ مِنْ النَّاسِ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا هُوَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ
حضرت ام سلیمان سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی علیہ السلام کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اے لوگو! ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اس کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو، پھر نبی علیہ السلام نے اسے سات کنکریاں ماریں اور وہاں رکے نہیں نبی علیہ السلام کے پیچھے ایک آدمی تھا جو آپ کے لئے آڑ کا کام کر رہا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ یہ فضل بن عباس ہیں۔
-