Musnad Ahmad — Hadith 25950
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَيْسَرَةَ أَبُو لَيْلَى عَنْ أَبِي عُكَّاشَةَ الْهَمْدَانِيِّ قَالَ قَالَ رِفَاعَةُ الْبَجَلِيُّ دَخَلْتُ عَلَى الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَصْرَهُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَا قَامَ جِبْرِيلُ إِلَّا مِنْ عِنْدِي قَبْلُ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ فَذَكَرْتُ حَدِيثًا حَدَّثَنَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَمَّنَكَ الرَّجُلُ عَلَى دَمِهِ فَلَا تَقْتُلْهُ قَالَ وَكَانَ قَدْ أَمَّنَنِي عَلَى دَمِهِ فَكَرِهْتُ دَمَهُ
رفاعہ بن شداد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مختار کے پاس گیا، اس نے میرے لئے تکیہ رکھا اور کہنے لگا کہ اگر میرے بھائی جبریل علیہ السلام اس سے نہ اٹھے ہوتے تو میں یہ تکیہ تمہارے لئے رکھتا میں اس وقت مختار کے سرہانے کھڑا تھا جب اس کا جھوٹا ہونا مجھ پر روشن ہوگیا تو بخدا میں نے اس بات کا ارادہ کرلیا کہ اپنی تلوار کھینچ کر اس کی گردن اڑادوں لیکن پھر مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھ سے حضرت سلیمان بن صرد نے بیان کی تھی کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو پہلے اس کی جان کی امان دیدے تو اسے قتل نہ کرے، اس لئے میں نے انہیں قتل کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
-