TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 26057 · A B C

Musnad AhmadHadith 26057

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُولُ أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي أَبُو عَمْرِو بْنُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ بِطَلَاقِي وَأَرْسَلَ إِلَيَّ خَمْسَةَ آصُعِ شَعِيرٍ فَقُلْتُ مَا لِي نَفَقَةٌ إِلَّا هَذَا وَلَا أَعْتَدُّ إِلَّا فِي بَيْتِكُمْ قَالَ لَا فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ كَمْ طَلَّقَكِ قُلْتُ ثَلَاثًا قَالَ صَدَقَ لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ تُلْقِينَ ثِيَابَكِ عَنْكِ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ فَآذِنِينِي قَالَتْ فَخَطَبَنِي خُطَّابٌ فِيهِمْ مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مُعَاوِيَةَ تَرِبٌ خَفِيفُ الْحَالِ وَأَبُو جَهْمٍ يَضْرِبُ النِّسَاءَ وَلَكِنْ أَيْ فِيهِ شِدَّةٌ عَلَى النِّسَاءِ عَلَيْكِ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَوْ قَالَ انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ تَمِيمٍ مَوْلَى فَاطِمَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ بِنَحْوِهِ

حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمر بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے طلاق کا پیغام بھیج دیا اور اس سے ساتھ پانچ صاع کی مقدار میں جو بھی بھیج دئیے میں نے کہا میرے پاس خرچ کرنے کے لیے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اور میں تمہارے گھر ہی کی عدت گذار سکتی ہوں؟ اس نے کہا نہیں یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے ، پھر نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی نے پوچھا انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟ میں نے بتایا تین طلاقیں نبی نے فرمایا انہوں نے سچ کہا تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گذار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہو چکی ہے ، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گذر جائے تو مجھے بتانا۔ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا جن میں حضرت معاویہ اور ابوجہم بھی شامل تھے، نبی نے فرمایا معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں ، جبکہ عورتوں کو مارتے ہیں (انکی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو۔گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیثیں