Musnad Ahmad — Hadith 26097
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ أَنَّ فُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ أُخْتَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ حَدَّثَتْهَا أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَهُمْ فَأَدْرَكَهُمْ بِطَرَفِ الْقَدُومِ فَقَتَلُوهُ فَأَتَاهَا نَعْيُهُ وَهِيَ فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ شَاسِعَةٍ عَنْ دَارِ أَهْلِهَا فَكَرِهَتْ الْعِدَّةَ فِيهَا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَانِي نَعْيُ زَوْجِي وَأَنَا فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ شَاسِعَةٍ عَنْ دُورِ أَهْلِي إِنَّمَا تَرَكَنِي فِي مَسْكَنٍ لَا يَمْلِكُهُ وَلَمْ يَتْرُكْنِي فِي نَفَقَةٍ يُنْفَقُ عَلَيَّ وَلَمْ أَرِثْ مِنْهُ مَالًا فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ أَلْحَقَ بِإِخْوَتِي وَأَهِلِي فَيَكُونَ أَمَرُنَا جَمِيعًا فَإِنَّهُ أَحَبُّ إِلَيَّ فَأَذِنَ لِي أَنْ أَلْحَقَ بِأَهْلِي فَخَرَجْتُ مَسْرُورَةً بِذَلِكَ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ الْمَسْجِدِ دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي فَدُعِيتُ فَقَالَ لِي كَيْفَ زَعَمْتِ فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ امْكُثِي فِي مَسْكَنِ زَوْجِكِ الَّذِي جَاءَكِ فِيهِ نَعْيُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ قَالَتْ فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
حضرت فریعہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے شوہر اپنے عجمی غلاموں کی تلاش میں روانہ ہوئے ، وہ انہیں "قدوم"کے کنارے پر ملے لیکن ان سب سے مل کر انہیں قتل کر دیا ، مجھے اپنے خاوند کے مرنے کی خبر جب پہنچی تو میں اپنے اہل خانہ سے دور کے گھر میں تھی، میں نبی کی خدمت میں خاضر ہوئی اور اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا کہ مجھے اپنے خاوند کے مرنے کی خبر ملی ہے اور میں اپنے اہل خانہ سے دور کے گھر میں رہتی ہوں ، میرے خاوند نے کوئی نفقہ چھوڑ ا ہے نہ ہی ورثہ کے لئے کوئی مال و دولت ، نیز اس کا کوئی مکان بھی نہ تھا، اگر میں اپنے اہل خانہ اور بھائیوں کے پاس چلی جاؤں تو بعض معاملات میں مجھے سہولت ہو جائے گی، نبی نے فرمایا چلی جاؤ، لیکن جب میں مسجد یا حجرے سے نکلنے لگی تو نبی نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ اسی گھر میں عدت گذارو جہاں تمہارے پاس تمہارے شوہر کی موت کی خبر آئی تھی یہاں تک کہ عدت پوری ہو جائے ، چنانچہ میں نے چار مہینے اور دس دن وہیں گذارے۔
-