TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 26281 · A B C

Musnad AhmadHadith 26281

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ سَمِعَ شَهْرًا يَقُولُ سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ تَقُولُ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَقَالَ إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ قَالَ لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنُسَ فَيَرْزُقَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ زَوْجًا وَيَرْزُقَهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبَ الْغَضْبَةَ فَرَاحَتْ تَقُولُ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ يَوْمًا خَيْرًا قَطُّ وَقَالَ مَرَّةً خَيْرًا قَطُّ

حضرت اسماء بنت یزید " جن کا تعلق بنی عبدالاشہل سے ہے " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ہمارے پاس سے گذرے ، ہم کچھ عورتوں کے ساتھ تھے، نبی نے ہمیں سلام کیا ، اور فرمایا احسان کرنے والوں کی ناشکری سے اپنے آپ کو بچاؤ، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! احسان کرنے والوں کی ناشکری سے کیا مراد ہے؟ نبی نے فرمایا ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے ماں باپ کے یہاں طویل عرصے تک رشتے کے انتظار میں بیٹھی رہے ، پھر اللہ اسے شوہر عطاء فرما دے اور اس سے اسے مال ودولت بھی عطاء فرما دے اور وہ پھر کسی دن غصے میں آکر یوں کہہ دے کہ میں نے تو تجھ سے کبھی خیر نہیں دیکھی۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت اسماء بنت یزید کی حدیثیں