TrueHadith

Musnad Ahmad, Hadith 3855 · A B C

Musnad AhmadHadith 3855

حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَقَالَ نَاوِلْنِي أَحْجَارًا قَالَ فَنَاوَلْتُهُ سَبْعَةَ أَحْجَارٍ فَقَالَ لِي خُذْ بِزِمَامِ النَّاقَةِ قَالَ ثُمَّ عَادَ إِلَيْهَا فَرَمَى بِهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَهُوَ رَاكِبٌ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ حَجًّا مَبْرُورًا وَذَنْبًا مَغْفُورًا ثُمَّ قَالَ هَاهُنَا كَانَ يَقُومُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ

عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر میں حضرت عبد ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب وہ جمرہ عقبہ کے قریب پہنچے تو فرمایا کہ مجھے کچھ کنکریاں دو، میں نے انہیں سات کنکریاں دیں ، پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اونٹنی کی لگام پکڑ لو، پھر پیچھے ہٹ کر انہوں نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سواری ہی کی حالت میں سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے رہے اور یہ دعاء کرتے رہے کہ اے اللہ! اسے حج مبرور بنا اور گناہوں کو معاف فرما، پھر فرمایا کہ وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورت بقرہ نازل ہوئی تھی۔

-

Permalink

See the full chapter: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرویات