TrueHadith

Muwatta Imam Malik, Hadith 1169 · Book on Buying and Selling (Bay')

Muwatta Imam MalikHadith 1169

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ لَا رِبًا فِي الْحَيَوَانِ وَإِنَّمَا نُهِيَ مِنْ الْحَيَوَانِ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ الْمَضَامِينِ وَالْمَلَاقِيحِ وَحَبَلِ الْحَبَلَةِ وَالْمَضَامِينُ بَيْعُ مَا فِي بُطُونِ إِنَاثِ الْإِبِلِ وَالْمَلَاقِيحُ بَيْعُ مَا فِي ظُهُورِ الْجِمَالِ قَالَ مَالِک لَا يَنْبَغِي أَنْ يَشْتَرِيَ أَحَدٌ شَيْئًا مِنْ الْحَيَوَانِ بِعَيْنِهِ إِذَا کَانَ غَائِبًا عَنْهُ وَإِنْ کَانَ قَدْ رَآهُ وَرَضِيَهُ عَلَی أَنْ يَنْقُدَ ثَمَنَهُ لَا قَرِيبًا وَلَا بَعِيدًا قَالَ مَالِک وَإِنَّمَا کُرِهَ ذَلِکَ لِأَنَّ الْبَائِعَ يَنْتَفِعُ بِالثَّمَنِ وَلَا يُدْرَی هَلْ تُوجَدُ تِلْکَ السِّلْعَةُ عَلَی مَا رَآهَا الْمُبْتَاعُ أَمْ لَا فَلِذَلِکَ کُرِهَ ذَلِکَ وَلَا بَأْسَ بِهِ إِذَا کَانَ مَضْمُونًا مَوْصُوفًا

سعید بن مسیب نے کہا حیوان میں ربا نہیں ہے بلکہ حیوان میں تین بیعیں نا درست ہیں ایک مضا میں کی دوسرے ملا قیح کی تیسے حبل الحبلہ کی مضا میں وہ جانور جو مادہ کے شکم میں ہیں ملاقیح وہ جانور جو رن کے پشت میں ہیں حبل الحبلہ کا بیان ابھی ہو چکا ہے ،۔ کہا مالک نے معین جانور کی بیع جب وہ غائب ہو خواہ نزدیک ہو یا دور درست نہیں ہے۔ اگرچہ مشتری اس جانور کو دیکھ چکا ہو اور پسند کرچکا ہو اس کی وجہ یہ ہے کہ بائع مشتری سے دام لے کرنفع اٹھائے گا۔ اور مشتری کو معلوم نہیں وہ جانورصحیح سالم جس طور سے اس نے دیکھا تھا ملے یانہ ملے البتہ اگر غیرمعین جانور کو اوصاف بیان کرکے بیچے تو کچھ قباحت نہیں ۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Said ibn al-Musayyab said, "There is no usury in animals. There are three things forbidden in animals: al-madamin, al-malaqih and habal al-habala. Al-madamin is the sale of what is in the wombs of female camels. Al-malaqih is the sale of the breeding qualities of camels" (i.e. for stud).

Permalink

See the full chapter: جس طرح یا جس جانور کو بیچنا نا درست ہے ۔