TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 1908 · Explanation of Buying and Selling

Sahih BukhariHadith 1908

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْمَدِينَةَ فَآخَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ وَکَانَ سَعْدٌ ذَا غِنًی فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ أُقَاسِمُکَ مَالِي نِصْفَيْنِ وَأُزَوِّجُکَ قَالَ بَارَکَ اللَّهُ لَکَ فِي أَهْلِکَ وَمَالِکَ دُلُّونِي عَلَی السُّوقِ فَمَا رَجَعَ حَتَّی اسْتَفْضَلَ أَقِطًا وَسَمْنًا فَأَتَی بِهِ أَهْلَ مَنْزِلِهِ فَمَکَثْنَا يَسِيرًا أَوْ مَا شَائَ اللَّهُ فَجَائَ وَعَلَيْهِ وَضَرٌ مِنْ صُفْرَةٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْيَمْ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ مَا سُقْتَ إِلَيْهَا قَالَ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ

احمد بن یونس، زہیر، حمید، انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف مدینہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان اور سعد بن ربیع انصاری کے درمیان بھائی چارہ کر دیا، سعد مال دار تھے، اس لئے عبدالرحمن سے کہا کہ میں اپنا آدھا مال بانٹ کر تمہیں دیتا ہوں اور میں تمہارا نکاح کر دیتا ہوں، انہوں نے کہا کہ اللہ تمہاری بیویوں اور تمہارے مال میں برکت عطا فرمائے مجھ کو بازار کا پتہ بتا دو، بازار سے واپس نہ ہوئے جب تک کہ پنیر اور گھی نہ بچا لیا اور اس کو اپنے گھر والوں کے پاس لے کر آئے کچھ ہی دن گزرے تھے کہ وہ ایک دن اس حال میں آئے کہ ان پر زردی کا اثر تھا ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کر لیا ہے، آپ نے پوچھا کہ اسے مہر کتنا دیا ہے؟ کہاں ایک گھٹلی کے برابر سونا ( نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ کہا) آپ نے فرمایا کہ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی ہو۔

Narrated Anas: When Abdur-Rahman bin Auf came to Medina, the Prophet established a bond of brotherhood between him and Sad bin Ar-Rabi al-Ansari. Sad was a rich man, so he said to 'Abdur-Rahman, "I will give you half of my property and will help you marry." 'Abdur-Rahman said (to him), "May Allah bless you in your family and property. Show me the market." So 'Abdur-Rahman did not return from the market) till he gained some dried buttermilk (yoghurt) and butter (through trading). He brought that to his house-hold. We stayed for some-time (or as long as Allah wished), and then Abdur-Rahman came, scented with yellowish perfume. The Prophet said (to him) "What is this?" He replied, "I got married to an Ansari woman." The Prophet asked, "What did you pay her?" He replied, "A gold stone or gold equal to the weight of a date stone." The Prophet said (to him), "Give a wedding banquet even if with one sheep." ________________________________________

Permalink

See the full chapter: اللہ تعالیٰ کا قول کہ جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاو