TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 2577 · Jihad and the Biography of Prophet Muhammad (PBUH)

Sahih BukhariHadith 2577

Narrated by Abu Huraira

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو حَصِينٍ أَنَّ ذَکْوَانَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دُلَّنِي عَلَی عَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ قَالَ لَا أَجِدُهُ قَالَ هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدَکَ فَتَقُومَ وَلَا تَفْتُرَ وَتَصُومَ وَلَا تُفْطِرَ قَالَ وَمَنْ يَسْتَطِيعُ ذَلِکَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ لَيَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ فَيُکْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ

اسحاق بن منصور، عفان، ہمام محمد بن حجادہ ابوحصین، ذکو ان حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی عبادت بتائے جو جہاد کے ہم مرتبہ ہو آپ نے فرمایا کہ ایسی عبادت تو کوئی نہیں لیکن کیا تم یہ کر سکے ہو۔ کہ جب مجاہد جہاد کیلئے نکلے تو اپنی مسجد میں جائے اور نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے اور سست نہ ہو اور برابر روزے رکھے کوئی روزہ نہ چھوڑے اس نے عرض کیا کہ حضرت ایسا کون کر سکتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ مجاہد کا گھوڑا جب اپنی رسی میں بندھا ہوا چرنے کیلئے چلتا پھرتا ہے تو اس گھوڑے کے ہر ہر قدم پر مجاہد کیلئے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

Narrated Abu Huraira: A man came to Allah's Apostle and said, "Instruct me as to such a deed as equals Jihad (in reward)." He replied, "I do not find such a deed." Then he added, "Can you, while the Muslim fighter is in the battle-field, enter your mosque to perform prayers without cease and fast and never break your fast?" The man said, "But who can do that?" Abu- Huraira added, "The Mujahid (i.e. Muslim fighter) is rewarded even for the footsteps of his horse while it wanders bout (for grazing) tied in a long rope."

Permalink

See the full chapter: جہاد کی فضیلت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے جنت کے بدلے انکی جانوں کو خرید لیا ہے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہیں تو قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں، تورات اور انجیل اور قرآن میں یہ خدا کا سچا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون وعدے کو پورا کرنے والا ہے پس تم اس خرید و فروخت پر خوشی کا اظہار کرو، تم نے جو تجارت کی ہے، یہ بڑی کامیابی ہے، اللہ تعالیٰ کے قول وبشرالمومین تک اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حدود سے مراد خدا کی اطاعت ہے۔