TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 2901 · Jihad and the Biography of Prophet Muhammad (PBUH)

Sahih BukhariHadith 2901

Narrated by Nafi from Ibn Umar

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلًا کَثِيرَةً فَکَانَتْ سِهَامُهُمْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا

عبداللہ مالک نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجد کی طرف ایک ٹولی روانہ کی جس میں عبداللہ بھی تھے اور ان لوگوں کو مال غنیمت میں سے فی کس گیارہ گیارہ بارہ بارہ اونٹ حصہ میں آئے اور ایک ایک اونٹ ان کو حصہ سے زیادہ اور مرحمت فرمایا گیا۔

Narrated Nafi from Ibn Umar: Allah's Apostle sent a Sariya towards Najd, and Abdullah bin 'Umar was in the Sariya. They gained a great number of camels as war booty. The share of each one of them was twelve or eleven camels, and they were given an extra camel each.

Permalink

See the full chapter: مسلمانوں کی ضرورت کے لیے خمس ثابت ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ بنو ہوازن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے اسباب و سامان کی واپسی کی استدعا کی ہے جس کا سبب یہ ہے کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعت بنو ہوازن میں ہوئی تھی اور آپ نے دوسرے مسلمانوں کے برابر ان کے بھی حصے لگائے اور آپ وعدہ فرمایا کرتے تھے کہ فئے انفال کے پانچویں حصہ میں سے ان کو بھی دینگے اور آپ نے انصار کو دیا اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیبر کے چھوارے عنایت فرمائے۔